رسائی کے لنکس

سفید فام قوم پرست سماجی میڈیا کو زیادہ استعمال کرتے ہیں: رپورٹ


فائل

فائل

مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے مقابلے میں سفید فام قوم پرستوں کی جانب سے ’’تقریباً تمام سماجی میڈیا میں ’فولوورز‘ اور یومیہ ٹوئیٹس کے لحاظ سے استعمال کہیں زیادہ ہے‘‘

ایک نئی مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا گیا ہے کہ سفید فام قوم پرست اور خودساختہ نازیوں کے ہمدرد، جو زیادہ تر امریکہ میں بستے ہیں، وہ سماجی میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں، جنھیں ’’نسبتاً زیادہ استثنیٰ‘‘ حاصل ہے؛ جو اکثر داعش کے شدت پسندوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر کیے جانے والے اعلانات سے کہیں زیادہ ہیں۔

اس رپورٹ کو جسے جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ’واشنگٹن میں انتہاپسندی‘ کے پروگرام نے جمعرات کو جاری کیا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ سنہ 2012سے اب تک امریکی سفید فام قوم پرستوں کی زیادہ تر تحریکوں میں تقریباً 22000 فولوورز شامل ہوئے، جو 600 فی صد تک کا اضافہ ہے۔

مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش کے مقابلے میں سفید فام قوم پرستوں کی جانب سے ’’تقریباً تمام سماجی میڈیا میں ’فولوورز‘ اور یومیہ ٹوئیٹس کے لحاظ سے استعمال کہیں زیادہ ہے‘‘۔

تحقیقی مرکز نے کہا ہے کہ ٹوئٹر پوسٹ میں سب سے زیادہ معروف موضوع ’’سفید فاموں کی نسل کشی‘‘ کا تصور ہوتا جس کی بنیاد اس شبہے پر ہوتی ہے کہ ’’سفید نسل‘‘ کو ’’معاشرے کے تنوع کے باعث براہِ راست خطرہ لاحق ہے‘‘۔

اس میں کہا گیا ہے کہ سفید فام قوم پرست سرگرم کارکن ہر روز سینکڑوں بار ٹوئیٹ کرتے ہیں، جن میں مختلف ’ہیش ٹیگس‘ اور ’نعروں‘ کا استعمال کیا جاتا ہے جن میں سفید فاموں کو میسر مراعات میں کمی کے تصور کو پیش کیا جاتا ہے۔

یونیورسٹی کی اس مطالعاتی رپورٹ میں سفید فام قوم پرسوں کے ٹوئٹر پر فولوورز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ سے قربت رکھتے ہیں، جو جائیداد کے نامور کاروباری شخص ہیں اور پہلی بار کسی منتخب عہدے کے لیے نومبر میں ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن کے خلاف کھڑے ہیں، جو سابق وزیر خارجہ ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپریل میں چوٹی کی 10 ’ہیش ٹیگس‘ میں سے تین سفید فام قوم پرستوں اور نازی کے ہمدردوں کی تھیں، اور دونوں ہی کا تعلق ٹرمپ کی انتخابی مہم سے تھا۔

XS
SM
MD
LG