رسائی کے لنکس

بدھ کے روز ہونے والی مختصر پیشی کے دوران، کینساس کے ضلعی جج نے بریڈلی ایڈورڈ میننگ کے نام کی تبدیلی کی اجازت دی ہے، جِن کا نام اب چیلسیا الزبیتھ میننگ ہوگا

کینساس کے ایک جج نے وکی لیکز کو خفیہ دستاویزات فراہم کرنے کے جرم میں سزا یافتہ امریکی اہل کار کے نام کی باضابطہ تبدیلی کی اجازت دے دی ہے۔

لیون ورتھ کاؤنٹی کے ضلعی جج، ڈیوڈ کنگ کے دفتر نے ’وائس آف امریکہ‘ سے اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ اُنھوں نےبدھ کے روز ہونے والی مختصر پیشی کے دوران، بریڈلی ایڈورڈ میننگ کے نام کی تبدیلی کی اجازت دی ہے، جِن کا نام اب چیلسیا الزبیتھ میننگ ہوگا۔

میننگ انٹیلی جنس کے سابقہ تجزیہ کار تھے، جو اِن دِنوں کینساس کے فوجی قیدخانے میں 35 برس کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اُن پر خفیہ سرکاری اطلاعات رازداری کے خلاف کام کرنے والی ویب سائٹ کے حوالے کرنے کا الزام ثابت ہونے پر سزا سنائی جا چکی ہے۔

سماجی رویوں سے متعلق صحت کے کم از کم دو فوجی اسپیشلسٹوں نے میننگ کا معائنہ کیا تھا، اور اُنھوں نے اُن کی جنس کے بارے میں رپورٹ دی تھی۔
XS
SM
MD
LG