رسائی کے لنکس

یمن کے جنوب میں واقع الاناد فضائی اڈے پر امریکی اسپیشل فورسز کے تقریباً 100 اہلکار تعینات رہے ہیں۔ اس اڈے کو امریکہ یمن میں القاعدہ کے اہداف کو ڈرون طیاروں سے نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

یمن کے دارالحکومت صنعا میں خود کش بم دھماکوں میں 137 افراد کی ہلاکت کے واقعے کے بعد امریکہ نے یمن سے اپنے تمام اہلکاروں کو واپس بلا لیا ہے۔

محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق یہ "عارضی تبدیلی" یمن میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے کی جارہی ہے۔

یمن کے جنوب میں واقع الاناد فضائی اڈے پر امریکی اسپیشل فورسز کے تقریباً 100 اہلکار تعینات رہے ہیں۔ اس اڈے کو امریکہ یمن میں القاعدہ کے اہداف کو ڈرون طیاروں سے نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ یمن سے دہشت گردوں کے خطرے کا " جائزہ لیتا رہے گا اور اس سے نمٹنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔"

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اتوار کو یمن سے متعلق ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر رہی ہے۔

سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں یمن کے صدر منصور ہادی نے گزشتہ ماہ صنعا سے رخصت ہونے کے بعد ہفتہ کو پہلی بار ٹیلی ویژن پر خطاب پر کیا۔

جنوبی شہر عدن سے خطاب کرتے ہوئے ہادی نے حوثی شیعہ باغیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ وزارتوں کی عمارتوں کا قبضہ چھوڑ دیں، اپنی فورسز کو دارالحکومت سے باہر نکالیں اور اقوام متحدہ کے تعاون سے شروع کی جانے والی امن بات چیت میں واپس آئیں۔

یمن 2012ء میں ایک تحریک کے نتیجے میں صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے تشدد اور بدامنی میں گھرا ہوا ہے۔

ایران کے اتحادی حوثیوں نے گزشتہ ستمبر میں دارالحکومت پر قبضہ کر لیا تھا اور وہ سنیوں سے لڑائی جاری رکھتے ہوئے اپنے تسلط کو مزید وسیع کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

واشنگٹن میں یمن کے سفارتخانے کے ایک ترجمان محمد الباشا نے ہفتہ کو ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ " وہ یمن میں بلند آہنگ طبل جنگ بجتا ہوا سن رہے ہیں۔"

XS
SM
MD
LG