رسائی کے لنکس

عالمی معاشی بحران: 'جی-20' ممالک کا تعاون بڑھانے پر اتفاق


عالمی معاشی بحران: 'جی-20' ممالک کا تعاون بڑھانے پر اتفاق

عالمی معاشی بحران: 'جی-20' ممالک کا تعاون بڑھانے پر اتفاق

دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں اور ابھرتی ہوئی معیشتوں نے عالمی معاشی نظام کو ایک اور کساد بازاری سے بچانے کے لیے باہمی تعاون سے اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا ہے۔

'جی-20' کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کے واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے رکن ممالک بینکنگ کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے "تمام ضروری اقدامات" اٹھائیں گے۔

بیان کے مطابق رکن ممالک "بینکوں کو درکار سرمایہ کی فراہمی اور اس تک ان کی آسان رسائی" کو یقینی بنائیں گے۔

جمعرات کی شب جاری کیے گئے بیان سے قبل عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا تھا جس کا بنیادی سبب یہ خدشات ہیں کہ عالمی معشیت ایک اور بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔

تاہم یہ بیان جمعہ کو ایشیائی سرماریہ کاروں میں موجود اس بے یقینی کی فضاء کا خاتمہ نہیں کرسکا اور ایشیا کی بیشتر مارکیٹوں میں مسلسل دوسرے روز بھی حصص کے کاروبار میں مندی دیکھنے میں آئی۔ البتہ یورپ کی مارکیٹوں میں حصص کے کاروبار میں بہتری آئی ہے اور دن کے پہلے ٹریڈنگ سیشن کے دوران کاروبار میں ایک فی صد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو رواں ہفتے بڑے نقصانات اٹھانے پڑے ہیں جن کی بنیادی وجہ امریکہ کے مرکزی بینک 'دی فیڈرل ریزرو' کی جانب سے بدھ کو دیا جانے والا یہ بیان تھا جس میں بینک نے خبردار کیا تھا کہ وہ بحالی کی جدوجہد میں پہلے ہی سے مصروف امریکی معیشت کے "زوال کے نمایاں خدشات" دیکھ رہا ہے اور امریکی معیشت کی مکمل بحالی میں مزید کئی برس لگ سکتے ہیں۔

مذکورہ وارننگ مرکزی بینک کے اس اعلان کا حصہ تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ شرحِ سود کو کم رکھنے اور معاشی ترقی کی رفتار میں اضافے کی غرض سے اپنے 400 ارب ڈالرز مالیت کے مختصر مدتی بانڈز فروخت کرکے طویل المدت سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت کے غیر یقینی مستقبل کی پیش گوئیوں اور یونان کی جانب سے اپنے بیرونی قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث نادہندہ قرار پانے کے خدشات یا تو ایک نئے عالمی بحران کو جنم دے سکتے ہیں یا پھر ان خدشات کے نتیجے میں عالمی معاشی ترقی کی پہلے سے کم رفتار میں مزید کمی آسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG