رسائی کے لنکس

مرکز نگاہ کا درجہ رکھنے والی یہ عمارت اُسی مقام پر کھڑی ہے جہاں کبھی زمین بوس ہونے والے ’ٹوئن ٹاورز‘ ہوا کرتے تھے۔ یہ 541 میٹر بلند عمارت ہے، جس کی دوبارہ تعمیر پر 3.9 ارب ڈالر لاگت آئی ہے، اور یہ مین ہٹن کی بلند و بالا عمارات کے جھرمٹ کی زینت بن چکی ہے

گیارہ ستمبر کے دہشت گرد حملوں کے 13 برس بعد، نئے سرے سے تعمیر شدہ ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘ نیویارک سٹی میں دوبارہ کھل چکا ہے۔

یہ 541 میٹر بلند عمارت ہے، جس کی دوبارہ تعمیر پر 3.9 ارب ڈالر لاگت آئی ہے، اور یہ مین ہٹن کی بلند و بالا عمارات کے جھرمٹ کی زینت بن چکی ہے۔ یہ شمالی امریکہ کی بلند ترین عمارت کا درجہ رکھتی ہے۔

مرکز نگاہ کا درجہ رکھنے والی یہ عمارت اُسی مقام پر کھڑی ہے جہاں کبھی زمین بوس ہونے والے ’ٹوئن ٹاورز‘ ہوا کرتے تھے۔

اِس نئے ’ون ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘ میں ناشر، کونڈے ناسٹ کے دفاتر؛ حکومت کا ’جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن‘ کا محکمہ اور ’دی چائنا سینٹر‘ شامل ہیں۔

دیگر کرایہ داروں میں ایک اشتہاری ادارہ، سرمایہ کار اور تفریح سے متعلق ادارے شامل ہیں۔

’ٹوئن ٹاورز‘ کو القاعدہ کے دہشت گردوں نے 11 ستمبر 2001ء کو ہائی جیک کیے گئے دو طیاروں کو اِن عمارتوں سے ٹکرا کر تباہ کیا تھا، جس میں یہ زمین بوس ہوئے اور اِن دہشت گرد حملوں میں 2700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

XS
SM
MD
LG