رسائی کے لنکس

امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دہشت گردانہ حملے اور یمن میں بدامنی کے بڑھتے ہوئے آثار کے پیش نظر سفارت خانے کے اضافی عملے اور دیگر امریکی شہریوں کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔

امریکہ نے دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر یمن میں اپنا سفارتخانہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس سے قبل القاعدہ کی طرف سے امریکی سفارتی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے خدشے کے پیش نظر متعدد سفارت اور قونصل خانوں کو عارضی طور پر بند کردیا گیا تھا۔

منگل کو امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دہشت گردانہ حملے اور یمن میں بدامنی کے بڑھتے ہوئے آثار کے پیش نظر سفارت خانے کے اضافی عملے اور دیگر امریکی شہریوں کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔

برطانیہ نے بھی یمن سے اپنے سفارتی عملے کو عارضی طور پر واپس بلا لیا ہے۔

قبل ازیں امریکی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری اور یمن میں اس دہشت گرد تنظیم کے سربراہ کے درمیان ہونے والے رابطے سے حاصل ہونے والی معلومات کے تناظر میں متعدد امریکی سفارتخانوں کو عارضی طور پر بند کردیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق الظواہری نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیڈر ناصر الوحاشی سے کہا تھا کہ گزشتہ اتوار سے پہلے پہلے حملہ کرے۔

عارضی بندش کے بعد پیر کو الجزائر، بغداد، ڈھاکا اور کابل میں امریکی سفارتخانے کھول دیے گئے جب کہ عمان، قاہرہ، صنا اور طرابلس سمیت 19 دیگر مقامات پر امریکی سفارتخانے تاحال بند ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان سفارتخانوں کو ’’حفظ ماتقدم ‘‘ کے طور پر بند کیا گیا ہے۔ ترجمان میری ہارف کے مطابق حکام سلامتی کے پیش نظر انٹیلی جنس معلومات کا تجزیہ کرتے رہیں گے۔
XS
SM
MD
LG