رسائی کے لنکس

جواں سال امیریکیو ں کی بڑھتی ہوئی تعداد اسٹروک کا شکار

  • ودھوشی سنہا

جواں سال امیریکیو ں کی بڑھتی ہوئی تعداد اسٹروک کا شکار

جواں سال امیریکیو ں کی بڑھتی ہوئی تعداد اسٹروک کا شکار

ایک تازہ قومی مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوے کی دہائی کے وسط سےایسے نوجوان امریکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو اسٹروک کی بیماری کے باعث اسپتال داخل ہوتے ہیں، جب کہ عمر رسیدہ امریکی جو فالج کے مرض کی بنا پر اسپتال داخل ہوا کرتے تھے اُن کی تعداد میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔

اریادنے نامی لڑکی اُس وقت فالج کا شکار ہوئیں جب اُن کی عمر محض 16برس تھی، اور اُن کے بدن کا بایاں حصہ مکمل طور پر مفلوج ہوگیا تھا۔

اُن کی ماں، کیرول پوپما نے یہ سب کچھ ہوتے ہوئےدیکھا۔

کیرول بتاتی ہیں کہ یہ بہت تکلیف دہ منظر تھا، کیونکہ میری بیٹی اپنا پیر گھسا کر چل رہی تھیں جب کہ اُن کا بازو جیسے لٹک رہا تھا۔ ہمیں اتنا اندازہ تھا کہ کوئی سنگین معاملہ لاحق ہے۔

فالج میں دماغ کے خلیے اُس وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار یا ضائع ہونے کے عمل سے گزرتے ہیں جب جما ہوا خون کا لوتھڑا یا چکنائی کے ذرات خون کی نالیوں میں خلل پیدا کرتی ہیں، جو عام حالات میں دماغ کو آکسیجن فراہم کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔

فالج کے اثرات میں عارضی طور پر مفلوج ہوجانا یا موت واقع ہونا شامل ، جس کا دارومدار اِس بات پر ہے کہ خون کی رسد میں پڑنی والی رکاوٹ کتنی دیر تک واقع ہوئی اور دماغ کے کتنے خلیے ضائع ہوئے۔

اریادنے خوش قسمت تھیں کہ اُسے فوری طور پر طبی امداد میسر آگئی اور اُن کاصحیح علاج ہو رہا ہے۔

لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ10سے30فی صد تک اِسی طرح کے فالج کے حملے موت کا سبب بن سکتے ہیں۔

عمومی طور پر ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ زیادہ تر عمر رسیدہ افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن ایک نئی وفاقی مطالعاتی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 1990کی دہائی کے وسط سے 35برس تک کی عمر کے امریکیوں کے اِس بیماری سے اسپتال داخل ہونے میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے، جس میں جواں سال اور بچے بھی شامل ہیں۔

تحقیق کاروں نے اسپتال میں داخل ہونے کے اعداد کی درجہ بندی عمر اورجنس کے اعتبار سےکی، اور پھر 1994ء اور 1995ء کے سالوں کاموازنہ 2006ء اور 2007ء سے کیا، یہ جاننے کے لیے کہ اِس عرصے میں کتنے افراد اسپتال داخل ہوئے۔ موازنے سے ظاہر ہوا کہ 15سے 34برس کے مرد جنھیں اسپتال داخل کیا گیا اُن کی تعداد میں 51فی صد اضافہ ہوا۔ اُسی عمر کے پیٹے کی خواتین میں فالج کے مرض میں صرف 17فی صد اضافہ دیکھا گیا۔

میری جارج ریاستِ جورجیا کے ایٹلانٹا شہر میں قائم‘ یو ایس سینٹرز فور ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن ’ اُن تحقیق کاروں میں سے ایک ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ بلوغت کی عمرکے نوجوانوںمیں فالج کے باعث اسپتال داخل ہونے کے معاملے میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ابھی تک یہ واضح نہیں آیا یہ اضافہ اسپتال میں داخلہ لینےیا تشخیص میں دیر نہ لگانےکے عنصر کے باعث ہواہے۔

وہ کہتی ہیں کہ بلند فشارِ خون، ذیابیطس اور موٹاپہ سبھی اسٹروک کے عوامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم اُنھوں نے کہا کہ اِس مطالعاتی جائزے میں بیماری کے اسباب جاننے کی کوشش کو شامل نہیں تھی۔

پبلک ہیلتھ کے ماہرین کے اندازے کے مطابق ہوسکتا ہے کہ فربہی کےمسئلے کے باعث بچوں اور نوجوانوں میں فالج کے واقعات بڑھے ہوں اور اسپتال میں داخلے میں اضافہ آیا ہو۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرض کے خطرات کے بارے میں بہتر آگہی کا ہونا، اوراسٹروک کا سبب بننے والی علامات کی بروقت تشخیص اور علاج معالجہ کی فراہمی کے باعث اچھا اثر یہ پڑا ہے کہ 34سے 65برسوں کی عمر کے امریکیوں میں فالج کی وجہ سے اسپتال داخل ہونے میں 25فی صد کمی آئی ہے۔ اِس میں 65سال سے زیادہ عمر کےافرادبھی آجاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG