رسائی کے لنکس

امریکہ میں متوقع اوسط عمر میں کمی کا خدشہ


امریکہ میں متوقع اوسط عمر میں کمی کا خدشہ

امریکہ میں متوقع اوسط عمر میں کمی کا خدشہ

دنیا کے زیادہ ترحصوں میں انسان کی متوقع عمر میں اضافہ ہورہاہے، لیکن دوسری جانب طبی ماہرین اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ بعض لوگ ایسا طرز زندگی اپنا رہے ہیں جو انہیں وقت سے پہلے موت کے منہ میں دھکیل سکتا ہے۔ امریکہ میں ہونے والے ایک نئے مطالعاتی جائزے میں کہا گیا ہے کہ زندگی گذارنے کے چار انداز ایسے ہیں جو صحت مند زندگی اور درازی عمر پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔

ماضی میں سوسال کی عمر کو لوگ خال خال ہی پہنچتے تھے مگر آج امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے سوسال جینے کی توقع کرسکتے ہیں۔

20 ویں صدی میں امیر ملکوں میں متوقع عمر میں 30 سال تک کا اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ میں اس وقت اوسط متوقع عمر 78 سال ہے۔ مگر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بری عادتیں اختیار کرنے والے لوگوں کی گھٹ سکتی ہے۔ ان بری عادات میں بہت زیادہ کھانا، یا جنک فوڈ کا ضرورت سے زیادہ استعمال، بہت کم ورزش اور تمباکونوشی شامل ہیں۔ ان عادات کے نتیجے میں کینسر، ذیابیطس، دل کی بیماری اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ہاورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ماہرین نے ایک مطالعاتی جائزے کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان عادات کے اپنانے سے عمر میں کتنی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ گودرزدوہنی بھی اس مطالعاتی جائزے میں شامل تھے۔

و ہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ معلوم ہوا کہ خون کے زیادہ دباؤ، تمباکونوشی، وزن میں زیادتی یا موٹاپا اور خون میں گلوکوز کی مقدار زیادہ ہونے سے قومی سطح پر مردوں کی متوقع عمر میں پانچ اور عورتوں کی عمر میں چار سال کمی ہوئی۔

ماہرین نے جب ان اعدادوشمار کو نسل، آمدنی کی سطح، علاقے سے تعلق کی بنیاد پر تقسیم کیا تو انہیں اس میں مزید نمایاں فرق دکھائے دیے۔

متوسط آمدنی رکھنے والے سفید فاموں کے بلڈ پریشر کی سطح سب سے بہتر تھی۔ لیکن ایشیائی امریکیوں میں بری عادات کم تھیں اور ان کی صحت سب سے بہتر تھی۔

گودرزدوہنی کا کہنا ہے کہ خون کے کم دباؤ کی وجہ سے ان میں دل کی بیماریاں نہیں تھیں۔ انہیں کینسر نہیں تھا کیونکہ تمباکونوشی میں کمی کے باعث ان میں کینسر کا خطرہ کم تھا۔

ماہرین کو یہ بھی معلوم ہوا کہ ایشیائی امریکیوں اور افریقی امریکیوں کے درمیان متوقع عمر کا فرق 14 سال کاتھا اورافریقی امریکیوں کی اوسط عمر 67 سال تھی۔

گودرزدوہنی کہتے ہیں کہ جنوب اور ہائی رسک کی آبادیوں کے علاقے مثلا ً لاس اینجلس کا ڈاؤن ٹاؤن وغیرہ میں رہنے والے افریقی امریکیوں مردوں کی متوقع عمر سب سے کم تھی۔

متوقع کم عمر کا ایک دوسرا گروپ افریقی امریکی عورتوں کا تھا، جس کی وجہ ان میں موٹاپے کی بلند تر شرح تھی۔

وزن کی زیادتی کے شکار لوگوں میں معذوری، ذیابیطس اور دل کے مرض کی شرح زیادہ تھی جس کی وجہ سے وہ جوانی میں ہی بیمار پڑجاتے ہیں اور انہیں کئی برس تک دواؤں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی صحت سے متعلق عہدے دار اس مطالعاتی جائزے کو ایسے پروگرام ترتیب دینے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں جن سے لوگوں کو اپنا طرز زندگی بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔

XS
SM
MD
LG