رسائی کے لنکس

امریکہ میں نئے انداز کے قبرستان

  • سوزین لوگ

امریکہ میں نئے انداز کے قبرستان

امریکہ میں نئے انداز کے قبرستان

امریکہ کے کچھ حصوٕ ں میں قبرستانوں کے لیے جگہیں کم پڑ رہی ہیں جس کے باعث روایتی تدفین ، خاص طورپر شہری علاقوٕ ں میں مہنگی ہوتی جاررہی ہے ۔ اب زیادہ امریکی اپنے عزیزوں کی میتں جلا نے کا راستہ اپنا رہے ہیں ، اوار اب ایک نئی کمپنی ایک ایسی جگہ فراہم کر رہی ہے جہاں میت سوزی کے بعد اس کی باقیات دفن کر دی جاتی ہیں ۔ تاہم نئی انداز کے یہ قبرستان ، روایتی قبرستانوں سے بہت مختلف ہیں۔

ان جنگلوں کو ایکو انٹرنیٹی یا ابدی جنگل کہا جاتا ہے۔ امریکہ میں اس وقت اس طرح کے چار جنگل ہیں جن میں سے ایک 2007ء میں ورجینیا میں قائم کیا گیاتھا۔ جیک لوئی اس جنگل کی دیکھ بھال کرنے والی کمپنی کے صدر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس مقصد کے لیے اسی طرح کے دور اور جنگل2008 اور ایک 2009 ءقائم کیے تھے۔ اس سال ہم نے کسی نئے جنگل کا آغاز نہیں کیا، لیکن آنے والے دنوں میں کچھ اور جنگل قائم کریں گے ۔ ہمارے کاروبار کا 50 فیصد کسی ایسے شخص کے ساتھ شروع ہوتا ہے جس کے پاس اپنے گھر میں میتوں کی راکھ موجود ہو۔

کیرل سیوٹل ایسے ہی افراد میں شامل ہیں ۔ ان کے شوہر رابرٹ کا انتقال1992ءمیں ہواتھا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے ان کی راکھ اپنے بیڈ روم کے ڈریسر پر ایک خوبصورت مرتبان میں رکھی ہوئی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ اسے اس وقت تک اپنے ساتھ رکھوں جب تک میرا انتقال نہ ہوجائے۔ جس کے بعد ہم دونوں کی راکھ کو پہاڑوں میں بکھیر دیا جائے ۔ لیکن مجھے آج تک کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو رضاکارانہ طور پر میری راکھ کسی جہاز سے پہاڑوں پر بکھیرنے کے لیےتیار ہوا ہو۔ اس لیے میں نے یہ خیال ترک کر دیا ۔ اس کی بجائے اب میں نے اپنی راکھ بھی یہاں دفن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔

مرنے والوں کی جلائی گئی نعشوں کی راکھ کو کسی درخت کی جڑوں میں مکئی کے باریک پسے آٹے سے بنے مرتبانوں میں دفن کیا جاتا ہے جو جراثیمی عمل سے تحلیل ہو سکتے ہیں ۔ اس کے بعد ان درختوں کی پشت پر راکھ کی شکل میں مدفون عزیز وں کے نام کا ایک کتبہ رکھ دیا جاتا ہے ۔

میرین کا کہنا ہے کہ یہ فطرت ہے ۔ یہ خوبصورت ہے ۔ اور ہم ایک ایسے مرتبان میں ہیں جو جراثیمی عمل سے تحلیل ہو جائے گا اور درختوں کی خوراک بن جائے گا۔ مجھے یہ پورا تصور بہت پسند ہے ۔

اس جنگل میں 300 درخت ہیں جنہیں زندہ یادگاریں قرار دیا گیا ہے ۔ ان سب پر نمبر لگے ہیں اور ان کے مقام کا پتا جنگل کے داخلی راستے پر ایک نقشے سے لگایا جا سکتا ہے ۔ ان میں سے کچھ کو خاندانوں یا دوستوں کے کسی گروپ نے ریزرو کرا لیا ہے ۔ کچھ درخت کمیونٹی کے درخت ہیں، جہاں انفرادی جگہ ریزرو کرائی جا سکتی ہے ۔ یہاں ابھی تک ایسے درخت بھی دستیاب ہیں جن کے ارد گرد سر سبز پٹیاں ہیں۔ کسی بھی ایک درخت کے لیے ساڑھے چار ہزار ڈالر یا کسی کمیونٹی کے درختوں میں کسی جگہ کی قیمت 900 ڈالر ہے ۔۔اس رقم سے جنگل کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اور اس کے لیے 99 سال کی ضمانت دی جاتی ہے ۔

جنگل کا انتظام چلانے والی کمپنی کے ڈائریکٹر جیک لوئی کہتے ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جنگل اپنی حفاظت خود کرتا ہے ۔ لیکن اصل بات یہ نہیں ہے ۔ کسی بھی جنگل میں اور جنگلات کے کسی بھی سلسلے میں ہر قسم کے طفیلی کیڑے مکوڑے یا پودوں اور درختوں کو لگنے والی دوسری بیماریاں حملہ کرتی ہیں ۔ اور وہاں کیڑے مار ادویات کے چھڑکاؤ کی ضرورت ہوتی ہے ۔کسی بھی جنگل کی شادابی بر قرار رکھنے کےلیے ہر قسم کے دوسرے اقدامات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

تقریباً ایک ہیکٹر رقبے کی یہ زمین ، کیمپ ہائی روڈ کا حصہ ہے جو ایک سمر کیمپ ہے اور ایک چرچ کی ملکیت ہے ۔ یورنڈ رک اس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ کیمپوں کو ہمیشہ فنڈز کی کمی کا سامنا رہتا ہے ، اور جس سے نمٹنے کے لیے کچھ کیمپ اپنے درخت لگاتے ہیں اور لکڑی فروخت کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب آپ کوئی ایک درخت کاٹتے ہیں تو کسی دوسرے درخت کو اس کی جگہ اگنے اور قابل فروخت ہونے کے لیے 30سے 50 سال تک لگ جاتے ہیں ۔ اس طریقے سے ہم درختوں کی حفاظت کر رہے ہیں اور ہم کیمپ کے لیے آمدنی کا ایک ذریعہ پیدا کر رہے ہیں۔ تو اس سے ہر ایک کے لیے ایک قسم کافائدہ ہی فائدہ ہے ۔

وہ کہتے ہیں کہ جب لوگ یہاں آتے ہیں ، تو انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کسی قبرستان میں ہیں ۔ وہ یہاں کچھ وقت ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے اپنے پیاروں کے ساتھ گزارنے کے لیے آتے ہیں ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ خدا اور فطرت کے ساتھ بھی کچھ وقت گزارنے آتے ہیں۔

اور یہ وہ چیز ہے جسے اکثر لوگ نسبتاً کسی روایتی قبرستان میں انجام دینے کے بارے شاید سوچ بھی نہیں سکتے۔

XS
SM
MD
LG