رسائی کے لنکس

امریکہ پاکستان کے اندورنی معاملات میں دخل نہیں دیتا: امریکی وزارت خارجہ


امریکہ پاکستان کے اندورنی معاملات میں دخل نہیں دیتا: امریکی وزارت خارجہ

امریکہ پاکستان کے اندورنی معاملات میں دخل نہیں دیتا: امریکی وزارت خارجہ

پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی امریکی نمائندے رچرڈ ہال بروک کے دفتر میں ڈپٹی ڈاریکٹر کمیونیکیشنز نیئرہ حق کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے ساتھ امریکہ کے تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے اور یہ کہ امریکہ کسی بھی طرح پاکستانی سیاست سمیت ملک کے اندرونی معاملات میں اپنا اثر و رسوخ استعمال نہیں کرتا۔ انہوں نے یہ بات وائس آف امریکہ کے ساتھ وکی لیکس پر پاکستان کے سلسلے میں شائع ہونے والی امریکی وزارت خارجہ کی خفیہ کیبلز کی اشاعت پر اپناردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہی۔

نیئرہ حق سے پوچھا گیا کہ Guardian Theنے لکھا ہے کہ وکی لیکس پر اسلام آباد میں امریکی سفارت خارنے کی شائع کی جانے والی کیبلز میں یہ لکھا گیا ہے کہ امریکی سپیشل فورسز پاکستان میں کام کر رہی ہیں اور فاٹا میں پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر القاعدہ اور طالبان جنگجوں کے خلاف ڈرون حملوں میں تعاون کر رہی ہیں۔ پہلی ٹیم کو ستمبر 2009ء میں اور اس کے بعد مزید ٹیموں کو بھی وہاں تعینات کیا گیا۔ کیا واقعی امریکی فوجی پاکستان میں فوجی کاروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں؟

ان کا جواب تھا کہ میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہوں گی کہ کس وقت کس کیبل میں کیا لکھا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا میں سفارت کار ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور اپنے ملکوں میں رپورٹ بھیجتے ہیں۔ تاکہ باہمی تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے موضوں پالیسیاں بنائی جا سکیں۔ جہاں تک تعلق ہے پاکستانی اور امریکی افواج کا ، تو یہ کوئی دھکی چھپی بات نہیں ہے کہ امریکی فوجی کئی برسوں سے پاکستانی فوج کو تعاون اور مدد فراہم کر رہی ہے۔ خاص طور پر فرنٹیئر کور کو جو برا ہِ راست دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہے۔

ان سے ایک اور سوال تھا کہ وکی لیکس کے مطابق ایک کیبل میں امریکی سفیر این پیٹرسن نے واشنگٹن کو بتایا کہ ہمارے لیے زیادہ باعث تشویش بات یہ نہیں ہے کہ کوئی دہشت گرد تنظیم ایک مکمل جوہری ہتھیار چوری کر لے بلکہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان کی تنصیبات میں کام کرنے والا کوئی شخص آہستہ آہستہ اتنا مواد چرا لے جس سے آخر میں ایک ہتھیار بن جائے۔ کیا امریکہ کو واقعی یہ خدشات ہیں؟

نیئرہ حق نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ یہ بار بار کہہ چکاہے کہ چاہے وہ صدر اوباما ہوں ،سیکرٹری کلنٹن یا کہ ایڈمرل مولن ، وہ سب یہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار رکھنے کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ اور اب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج وہ سب کچھ کر رہی ہے جو اس کے ایٹمی ہتھیاروں تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

وائس آف امریکہ کا ایک اورسوال یہ تھا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور امریکی سفیر این پیٹرسن کے درمیان ہونے والی بات چیت کے سامنے آ نے پر پاکستانی اخبار جنگ نے لکھا ہے کہ اس سے پاکستانی سیاست میں امریکہ اور فوج کا عمل دخل نے نقاب ہو گیا ہے۔ کیا امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں اس کے مفادات فوج ہی پورے کر سکتی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی عہدے دار نے کہا کہ امریکہ کئی برسوں سے پاکستان کی جمہوری حکومت کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اس بات کی حمایت کرتا ہے کہ یہ لوگوں کا حق ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کون ملک میں اور بیرونِ ملک ان کی نمائندگی کرے گا۔ امریکہ اور پاکستان کی دوستی کئی شعبوں میں ہے۔ امریکی فوج پاکستانی فوج سے بات کرتی ہے۔ امریکہ کی حکومت پاکستان کی حکومت سے بات کرتی ہے اور اسی طرح ہمارے ڈاکٹر، وکلا اور معیشت دان ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور یہی ہماری دوستی کی اہم بات ہے ۔ یہ سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی سے کہیں زیادہ ہے۔

امریکی عہدے دار سے ایک اور سوال یہ تھاکہ ایک اور کیبل میں امریکی سفیر نے یہ تحریر کیا ہے کہ صدر زرداری اس وقت کے صوبہ سرحد کے گورنر اویس غنی کو تبدیل کرنا چاہتے تھے اور ان کی جگہ ایف سی کے سربراہ میجر جنرل طارق خان کو لانا چاہتے تھے ، مگر امریکی سفیر نے اس خیال کی حوصلہ شکنی کی۔ کیا امریکہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مشورہ مشاورت کا کردار ادا کرتا ہے؟

نیئرہ حق نے اس کے جواب میں کہا کہ امریکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ اپنی حکومت کو وہاں کے لوگ منتخب کریں گے۔یہ کیبلز اگر کچھ بتاتی ہیں تو وہ یہ ہے کہ دوست ممالک کے درمیان کافی بات چیت ہوتی ہے کہ ان کے ملکوں میں کیا ہو رہا ہے۔ اور یہ صرف پاکستانی سیاست اور لوگوں کو سمجھنے کے لیے ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ امریکی سفارت کاروں نے یہ بات کی ہو گی کہ ان کے ملک اور لوگوں کے لیے کیا بہتر ہے۔ مگر امریکہ کسی بھی طرح پاکستانی حکومت کے اندرونی معاملات میں اپنا اثرو رسوخ استعمال نہیں کرنا چاہتا۔

ان سے ایک اور سوال پاکستانی سیاست دانوں اور امریکی عہدے داروں کے تعلقات کے بارے میں تھا کہ چند کیبلز کے مطابق کچھ پاکستانی سیاستدان امریکی عہدے داروں سے ملتے رہیے ہیں اور ان سے اقتدار میں آنے کے لیے مدد مانگتے رہے ہیں ۔ کیا واقعی پاکستانی سیاستدان ملک کے اندرونی معاملات اور سیاست کےلیے امریکہ پر اسقدر انحصار کرتے ہیں؟ اور کیا واقعی امریکہ ان کے مفادات پورے کرانے میں مدد دے سکتا ہے؟

نیئرہ حق کا کہناتھا کہ صرف پاکستان کے عوام ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ ملک کون چلائے گا۔ یہ جمہوریت کی بنیاد ہے اور امریکہ اپنے ملک میں اور ملک سے باہر اسی سوچ کی حمایت کرتا ہے۔

ان سے وائس آف امریکہ کا آخری سوال یہ تھا کہ پاکستان میں بعض حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وکی لیکس پر شائع ہونے والی یہ کیبلز پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی امریکی سازش ہے۔ اس پر آپ کیا کہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ بدامنی نہ تو پاکستان کے قومی مفاد میں ہے نہ ہی امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔ دوستوں کے درمیان اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔ ہم مختلف طوفانوں کا اکھٹے مقابلہ کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ پاکستان اور امریکہ کی دوستی چلتی رہے گی اور آنے والے برسوں میں مزید اضافہ ہوگا اور وہ مزید مستحکم ہوگی۔

XS
SM
MD
LG