رسائی کے لنکس

کیا اگلے امریکی صدارتی انتخابات میں مذہب اہم موضوع ہوگا

  • رضا نقوی

P)

P)

باوجود یکہ امریکی قانون میں مذہب اور سیاست کو الگ الگ رکھا جاتا ہے ، دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں مذہب امریکی سیاست میں ایک بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

امریکہ کے آئین میں سیاست اور مذہب ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں۔ لیکن کیا مذہب کا یہاں کی سیاست پر واقعی کوئی اثر نہیں؟ ہم نے دیکھا کہ نیویارک میں گراؤنڈ زیرو کے قریب ایک اسلامک سینٹر کی تعمیر کا مسئلہ ملک میں ہر سطح پر بحث و مباحثے کا موضوع بنا ۔اس کے علاوہ شکاگو اور چند دوسرے علاقوں میں بھی اب مساجد کے قیام کی مخالفت کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔کیا امریکہ میں نومبر کے وسط مددتی انتخابات میں مذہب نے کوئی کردار ادا کیا؟ اور کیا 2012 کے صدارتی الیکشن میں اس کا کوئی رول ہوسکتاہے ؟

امریکی تھنک ٹینک ، امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والے ایک مباحثے کے دوران یہ سوال اٹھایا گیا کہ2010ءکے انتخابات میں مذہب نے کیا کردار ادا کیا تھا۔ لورا اولسن کا تعلق کلیمسن یونیورسٹی سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنیادی سطح پر امریکی سیاست میں مذہب ووٹرز کے لیے اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کہ امریکی قانون میں مذہب اور سیاست کو الگ الگ رکھا جاتا ہے ، دیگر ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں مذہب امریکی سیاست میں ایک بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین کاکہنا تھا کہ امریکہ میں مذہبی جماعتیں نہیں ہیں، لیکن ریپبلکن پارٹی عموما اپنی سیاسی مہم میں مذہبی جذبات کا رنگ شامل کرتی ہے ۔ اسی وجہ سے امریکہ میں سب سے بڑا مذہبی ووٹ بینک قدامت پسند عیسائیوں کا ہے ، جو زیادہ تر ری پبلیکن پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے کینتھ والڈ کا کہنا تھا کہ2010ءکے کانگریس کے انتخابات میں سیاستدانوں نے اسلام مخالف تصورات اجاگر کرنے کی خاص طور پر کوشش کی ۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر امریکی عوام اسلام کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے، اورکئی مرتبہ اسلام کو 9/11 اور دہشت گردی سے منسلک کر کے دیکھا جاتا ہے۔نیویارک کے گراؤنڈ زیرو پر مسجد کی تعمیر کا تنازع، اوکلاہاما میں شریعت کے بارے میں عدالت کا فیصلہ ، اور ناکام دہشت گردی کے کئی حالیہ واقعات نے بھی امریکی عوام کو اسلام کا ایک منفی چہرہ دکھایا ہے۔ لیکن لورا اولسن کا کہنا ہے کہ باوجود اس کے کہ حالیہ امریکی انتخابات میں اسلام کے بارے میں کچھ سوالات اٹھائے گئے، 2012 ءمیں مذہب کی اہمیت اتنی نہیں نظر آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ ان انتخابات میں کئی سیاستدان اسلام کو ایک مسئلہ بنانے مین کامیاب رہے۔ لیکن2012 ء میں صدر اوباما دوبارہ انتخاب لڑیں گے ، اور ان کی صدارت کا ایک اہم پہلو ہےمسلمان دنیا کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانا۔ میرے خیال میں صدر اوباما اسلام کو سیاسی ایجنڈا سے الگ کرنے میں کامیاب رہیں گے ۔

لیکن صدر اوباما کے اپنے مذہبی عقائدکے بارےمیں بھی امریکہ میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق51 فی صد امریکی سمجھتے ہیں کہ صدر اوباما کی مذہبی سوچ انکی سیاسی سوچ سے مختلف ہے۔ مباحثے کے شرکا کا کہنا تھا کہ کئی امریکیوں میں ابھی تک یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ صدر اوباما مسلمان ہیں، جس کی وجہ سے 2012 مءمیں انہیں 2008ء کے صدارتی انتخاب کی طرح مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ2010 ءمیں ری پبلیکن اور ڈیموکریٹک ووٹرز دونوں کے لیےمذہب اتنا اہم معاملہ نہیں تھا ۔

نارمن آرسٹین کا تعلق امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ سے ہے۔ ان کا کہناتھا کہ 2010ءمیں معیشت سب سے اہم چیز تھی جس پر لوگوں نے ووٹ ڈالا، اور 2012 ءمیں بھی ہم یہی دیکھیں گے۔ اس کےعلاوہ افغانستان میں جنگ اور دہشت گردی کے خطرات بھی زیادہ اہمیت رکھیں گے۔ اگرچہ مذہب ایک کردار ادا کرے گا ، لیکن یہ سب سے اہم نہیں ہو گا۔

باوجود یکہ مذہب امریکی سیاست میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، ماہرین کا کہنا تھا کہ2012ء کے انتخابات میں امریکہ کی معاشی صورت حال ووٹرز کے لیے سب سے اہم معاملہ ہو گا۔ جس میں ووٹ صدر اوباما کی معاشی پالیسیوں کی بنیاد پر ڈالے جائیں گے ، مذہبی پالیسیوں کی وجہ سے نہیں۔

XS
SM
MD
LG