رسائی کے لنکس

کیا امریکہ جولین اسانج پرمقدمہ چلاسکتاہے؟


وکی لیکس کے بانی کے مقدمے کا احوال

وکی لیکس کے بانی کے مقدمے کا احوال

جولین اسانج نہ تو امریکی شہری ہیں نہ ہی امریکی زمین پر ۔ آسٹریلیاسے تعلق رکھنے والے سابق انٹر نیٹ ہیکر ، خیال ہے کہ اس وقت برطانیہ میں روپوش ہیں ۔

واشنگٹن کے قانونی حلقوں میں اس وقت ایک اور زیر بحث سوال یہ ہے کہ عالمی سفارتکاری کی دنیا میں وکی لیکس کےانکشافات کے ذریعے بھونچال برپا کرنے والوں کو کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ؟امریکی فوج کی حساس معلومات کے شعبے کے ایک ماہر بریڈ لی میننگ کو اس سال مئی میں حساس سفارتی معلومات ڈاون لوڈ کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ عالمی تحقیقاتی ادارہ انٹر پول وکی لیکس کے آسٹریلین بانی جولین اسانج کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر چکا ہے ۔ اگرچہ اس کا تعلق ایک مختلف مقدمے سے ہے۔ ماہرین ان پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا استغاثہ مروجہ قوانین کے تحت انہیں کوئی سزا دلوانے میں کامیاب ہوسکتا ہے یا نہیں؟

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن کو وکی لیکس کے انکشافات پر اپنا رد عمل ظاہر کرنے کے فوری بعد اپنے چار روزہ غیر ملکی دورے میں انہی عالمی راہنماوں سے ملاقات کا مشکل مرحلہ درپیش ہےجن سے متعلق امریکی سفارت کاروں کی بات چیت کی تفصیلات وکی لیک نے عام کی ہیں ۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ تمام ملکوں کے وزرائے خارجہ کو یقین دلا رہی ہیں کہ اس سے امریکی سفارتکاری میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔

لیکن امریکی انتظامیہ یہ کوشش ضرور کر رہی ہے کہ بریڈلی میننگ نام کے اس امریکی فوجی کو رہائی نہ ملنے پائے، جس پر ان خفیہ دستاویز کی فراہمی کا شبہ ہے ۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ وکی لیک کے بانی جولین اسانج کے ساتھ امریکی انتطامیہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ جولین اسانج روپوش ہیں ۔ دنیا انہیں تلاش کر رہی ہے اور عالمی تحقیقاتی ادارے انٹر پول نے انہیں اپنے سب سے مطلوبہ افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے ۔ سویڈن کی انتظامیہ کو ان کی تلاش جنسی ہراس کے ایک مقدمے میں ہے اور امریکہ میں وہائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری رابرٹ گبز کے مطابق ان دستاویز کی فراہمی اور اشاعت کے معاملے کی ایک مجرمانہ تحقیق جاری ہے ۔

امریکہ جولین اسانج کے خلاف کیا الزام عائد کر سکتا ہے ؟ ایسپیاناج یعنی خفیہ دستاویز عام کرنے کا الزام ؟ لیکن امریکہ کے سو سال پہلے لکھے گئے ایسپیاناج ایکٹ کو اب تک جدیداور الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کے کسی امتحان سے نہیں گزرنا پڑاتھا ۔ اگر یہی فرد جرم عائد کی جاتی ہے تو قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کا جاننے کا حق جولین اسانج کا بہترین دفاع ثابت ہوگا۔ ثبوت تو ڈھائی لاکھ دستاویزات کی صورت موجود ہیں لیکن ایسپیاناج ایکٹ کے تحت امریکی حکومت کو یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ ان دستاویزات کے عام ہونے سے امریکہ کی قومی سلامتی کو کیسے نقصان پہنچا ۔ جس سے کچھ مزید رازوں سے پردہ اٹھنے کا خدشہ ہے ۔

پیٹرک روون قومی سلامتی کے معاملات پر امریکہ کے سابق نائب اٹارنی جنرل ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے خطرناک دستاویزات وہی ہیں جن کے عام ہونے سے امریکی حکومت کو نقصان پہنچا اور انہی کے بارے میں مقدمہ کے دوران یہ بتانا پڑے گا کہ یہ دستاویز کس وجہ سے نقصان دہ ہیں، جس سے مزید معلومات فراہم کرنی ہونگی۔

لیکن جولین اسانج نہ تو امریکی شہری ہیں نہ ہی امریکی زمین پر ۔ آسٹریلیاسے تعلق رکھنے والے سابق انٹر نیٹ ہیکر ، خیال ہے کہ اس وقت برطانیہ میں روپوش ہیں ۔

سابق امریکی اٹارنی جنرل پیٹرک روون کا کہنا ہے کہ امریکہ کو جولین پر مقدمہ قائم کرنے کے لئے عوامی اور غیر ملکی دباؤ کو نظر انداز کر دینا چاہئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ بہتر یہ ہوگا کہ آپ ابھی دو چار سال خاموشی سے انتطار کریں، یہانتک کہ اسے محفوظ ہونے کا یقین ہو جائے۔ پھر شاید وہ کسی ذاتی وجہ سے سفر کرنے کا فیصلہ کر لے اور کسی ایسے ملک میں جائے، جہاں سے امریکی حکومت اسے گرفتار کروا کے اپنے ملک میں لا سکے ۔ یہی ایک راستہ ہے جو امریکی حکومت ایسے کیسز میں اختیار کر سکتی ہے ۔

اس دوران امریکی فوج کی خفیہ معلومات کے شعبے کے اہلکار بریڈلی میننگ کو جو اس سال مئی سے خفیہ معلومات عام کرنے کے جرم میں واشنگٹن کے ایک مضافاتی حراستی مرکز میں ہیں ،کورٹ مارشل کا سامنا ہو سکتا ہے اور اگر ان پر عائد الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں اپنی باقی کی ساری زندگی جیل میں گزارنی پڑ سکتی ہے ۔

جوناتھن ٹریسی بریڈلی میننگ کے مقدمے میں مبصر کے طور پر شریک ہونگے ۔ وہ امریکی فوج کے ساتھ منسلک ایک سابق وکیل استغاثہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت سنجیدہ کیس ہے ، اور اگر یہ ثابت ہوگیا کہ اس نے واقعی ایسا کیا تھا ۔ تو ملٹری کمانڈر اسے قانون کی زبردست خلاف ورزی قرار دے گا ۔ اور اسے کورٹ مارشل کا حکم سنانا چاہے گا ۔

بریڈلی میننگ کو کم از کم دو ویب سائٹس کی حمایت حاصل ہے ۔ فوج کی طرف سے فراہم کئے گئے ایک دفاعی وکیل کے علاوہ ، انہوں نے ڈیوڈ کومب نام کے ایک سابق فوجی وکیل کی خدمات بھی حاصل کی ہیں ۔ بریڈلی میننگ پہلے ہی چھ ماہ سے جیل میں ہیں ۔

جوناتھن ٹریسی کا کہنا ہے کہ فوج کا نظام انصاف بہت سوچ بچار پر مبنی ہے ، اس لئے کبھی کبھی یہ بہت آہستگی سے کام کرتا ہے ۔

جس کا مطلب ہے کہ اس وقت جو واحد چیز عوام اور عالمی راہنماوں کی عدالت میں کھڑی ہے وہ امریکی خارجہ پالیسی ہی ہے ۔

XS
SM
MD
LG