رسائی کے لنکس

امریکہ: پہلی سہ ماہی میں ونڈ انرجی کے ریکارڈ یونٹ قائم


فائل فوٹو

امریکن ونڈ انرجی ایسوسی ایشن نے منگل کے روز جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ سن 2009 سےاب تک یہ کسی ایک سہ ماہی کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔

امریکہ کی ہوا کی قوت سے بجلی بنانے والی صنعت نے اس سال کی پہلی سہ ماہی میں تقربیاً 2 ہزار میگا واٹ کے یونٹ قائم کیے ہیں جو پچھلے سال کے اسی مدت کےمقابلے میں تقریباً 4 گنا زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ونڈ پاور کے یونٹ لگانے میں تیزی کی وجہ وفاقی ٹیکس کی پرکشش رعایت حاصل کرنا ہے جو بتدریج کم ہو رہی ہے۔

امریکن ونڈ انرجی ایسوسی ایشن نے منگل کے روز جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ سن 2009 سےاب تک یہ کسی ایک سہ ماہی کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔

ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ ہوا کی قوت کو بجلی میں تبدیل کرنے سے متعلق تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے اس سلسلے میں ٹیکس میں جو رعائتیں دی ہیں ان کے اثرات سن 2020 تک برقرار رہیں گے اور پھر اس کے بعد ہر سال 20 فی صد کی شرح سے کم ہوتے چلے جائیں گے۔

ٹیکس میں یہ رعایت وہ کمپنیاں حاصل کر سکیں گی جو سن 2017 اور 2019 کے درمیان انرجی یونٹ قائم کریں گی۔

اس وقت 9 ہزار میگا واٹ سے زیادہ قوت کے ونڈ انرجی پراجیکٹ زیر تعمیر ہیں جب کہ مزید تقریباً 12 ہزار میگا واٹ کے منصوبے ابتدائی مراحل میں ہیں۔

ان میں سے تقریباً ایک چوتھائی ایسی کمپنیاں لگا رہی ہیں جن کا بجلی کے شعبے سے کوئی تعلق نہیں ہے، جن میں فوج، ایمزان ، گوگل ، ہوم دپوا ور انٹیوٹ انکارپویڈ شامل ہیں۔

ونڈ انرجی کے شعبے میں آنے والی صرف چند ہی کمپنیاں ایسی ہیں جن کا تعلق بجلی کی صنعت سے ہے۔ ان میں ایکس سیل ، برک شائر ہیتھوے، مڈ امریکن انرجی ، الائنیٹ انرجی اور ڈی ٹی اے انرجی شامل ہیں۔

اس سال کی پہلی سہ ماہی میں سب سے زیادہ میگا واٹ کے پراجیکٹ لگانے والی سرکاری کمپنی ریاست ٹیکساس ہے، جس کے بعد کینساس ، نیو میکسیکو ، نارتھ کیرولائنا اور مشی گن کے نام آتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG