رسائی کے لنکس

دوران پرواز ایندھن بھرنے سے متعلق اطلاعات کا تبادلہ


دوران پرواز ایندھن بھرنے سے متعلق اطلاعات کا تبادلہ

دوران پرواز ایندھن بھرنے سے متعلق اطلاعات کا تبادلہ

پاکستان اور امریکہ فضائیہ کے ہوابازوں اور دیگر متعلقہ عملے نے گذشتہ روز راولپنڈی میں چکلالہ ایئربیس پر دوران پرواز طیاروں میں دوبارہ ایندھن بھرنے سے متعلق معلومات کا باہمی تبادلہ کیا۔ یہ مشق امریکہ اور پاکستان کے مابین دوران پرواز ایندھن بھرنے کی صلاحیتوں کو ترقی دینے اور اس سلسلہ میں تعاون بڑھانے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ تھی۔

امریکی سفارت خانے سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق کرغستان کے شہر مناس کے ٹرانزٹ سینٹر پر متعین امریکی فضائیہ کے ارکان نے چکلالہ ائیر بیس پر پاک فضائیہ کے ہوابازوں اور دیگر عملے کے دوران پرواز ایندھن بھرنے کے آلات اور طریقوں سے آگاہ کرنے کے لیے اُنھیں اپنے کے سی 135 اسٹریٹو ٹینکر طیارے پر مدعو کیا۔

پاکستان میں تعینات امریکی بحریہ کے وائس ایڈمرل مائیکل لیفیور نے پاک فضائیہ کے اعلیٰ عہدیدار وں طاہر رانجھااورخلیل احمد نے اس مشق کی میزبانی کی۔

اس موقع پر وائس ایڈمرل لیفیور نے کہا کہ اس قسم کے پروگرام ہماری افواج کے درمیان افہام و تفہیم اور تعلقات کو فروغ دیتے اور اُن کی صلاحیتوں و مہارتوں کو بڑھاتے ہیں۔ رواں سال کے اواخر میں پاکستان کو مزید F-16 طیاروں کی مجوزہ فراہمی کے علاوہ ملک میں تشد د آمیز انتہاپسندی کے خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لیے پاک فضائیہ کی دوران پرواز میں ایندھن بھرنے کی مہارت میں اضافہ اور اس کی صلاحیت کو بڑھانا انتہائی ضروری ہے۔

گذشتہ تین برسوں کے دور ان امریکہ کی جانب سے پاکستان کو فراہم کی گئی فوجی اور غیر فوجی امداد کا کل حجم چار ارب ڈالر ہو چکا ہے ۔ اس امداد میں طبی اعانت ، اسکولوں کی تزئین و آرائش ، پلوں اور کنوؤں کی تعمیر نو، خوراک کی تقسیم ، زرعی و تعلیمی منصوبے ، 14 ایف سولہ طیارے،پانچ تیز رفتار گشتی کشتیاں سمیت متعدد اقسام کے سکیورٹی آلات شامل ہیں۔

مزید برآں امریکہ نے 370 سے زائد پاکستان کے فوجی افسران کو قیادت اور ترقیاتی پروگراموں کے لیے امداد اور تربیت فراہم کی جن میں انسداد دہشت گردی ، خفیہ معلومات ، نقل و حمل، طب،دوران پرواز تحفظ اور فوجی قوانین کے شعبہ شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG