رسائی کے لنکس

پاکستان کے نجی شعبے میں 15 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری


فائل

فائل

یو ایس ایڈ کے سربراہ نے کہا ہے کہ ساجھے داری کی بنیاد پر امریکہ نجی شعبے کے فروغ؛ اور ہمسایہ ممالک اور عالمی معیشت میں ایک باوقار معاشی پارٹنر کا درجہ پانے میں پاکستان کی مدد کا خواہاں ہے

پاکستان میں چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروباروں میں سرمایہ کاری کی طرف دھیان مبذول کرانے کی غرض سے، امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے منتظم، ڈاکٹر راجیو شاہ نے نجی شعبے میں 15کروڑ ڈالر مالیت کے دو ’اکوئٹی فنڈز‘ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈاکٹر شاہ نے پاکستان کے نجی شعبےمیں سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششوں کے سلسلے میں، اِس بات کا اعلان کیا کہ یو ایس ایڈ ’ابراج‘ اور ’جے ایس پی اِی‘ سے ساجھے داری کی بنیاد پر ’اکوئٹی فنڈز‘ کا اجرا کر رہا ہے۔

اُنھوں نے یہ بات پاکستان اور امریکہ کی دو روزہ سرمایہ کاری کانفرنس میں اپنے خطاب میں کہی۔ یہ اجلاس دبئی میں شروع ہوا، جِس کا مقصد پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اجاگر کرنا اور انھیں فروغ دینا ہے۔

یو ایس ایڈ کے ایک پریس رلیز کے مطابق، راجیو شاہ نے کہا کہ ابراج اور جے ایس پی اِی کے ساتھ ساجھے داری کرکےامریکہ نجی شعبے کے فروغ کی حمایت کر رہا ہے؛ اور ہمسایہ ممالک اور عالمی معیشت میں ایک باوقار معاشی پارٹنر کا درجہ پانے میں پاکستان کی مدد کا خواہاں ہے۔

اُن کے بقول، پاکستان کے چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروبار میں سرمایہ لگانے کی ضرورت ہے، تاکہ نجی شعبہ اپنی استعداد کے مطابق فروغ پائے اور پاکستان کی معیشت میں خاطر خواہ طور پر ایک مضبوط حصے دار بن سکے۔

اس سلسلے میں جس جدت پر مبنی انداز کو اپنایا جارہا ہے اُس میں ایسے کاروباروں کو نظر میں رکھا گیا ہے جن میں افزائش کے بہتر امکانات موجود ہیں، جن کو بازار حصص میں وسعت دی جائے گی، نئی اور اضافی مصنوعات تیار کی جائیں گی، پاکستان کی معیشت کو بڑھاوا دینے میں مدد کی جائے گی اور پاکستان میں روزگاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔

پریس رلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ، یو ایس ایڈ اور نجی شعبے کے پارٹنرز کی طرف سے 15کروڑ ڈالر کی رقم اکٹھی کی جائے گی۔

اس سلسلے میں ’یو ایس ایڈ ‘ دونوں نجی اکوئٹی فنڈز میں دو کروڑ 40لاکھ ڈالر کی دو عدد ابتدائی سرمایہ ڈالے گا، جس کی مجموعی مالیت چار کروڑ 80لاکھ ڈالر ہوگی۔

یو ایس ایڈ کی طرف سے پانچ شعبوں میں اعانت کی جاتی ہے جن پر ملک کے معاشی مستقبل کا دارومدار ہے، جن میں توانائی، معاشی افزائش اور زراعت، کمیونٹی کا استحکام، تعلیم اور صحت شامل ہیں۔

اکتوبر 2009ء سے اب تک امریکہ نےمعاشی اعانت کی مد میں ساڑھے تین ارب ڈالر دیے ہیں، جس کا مقصد ایک محفوظ، رواداری پر مبنی، جمہوری اور خوش حال پاکستان ہے۔
XS
SM
MD
LG