رسائی کے لنکس

فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں تعلیمی شعبے میں امریکی امداد سے دو منصوبوں کی تکمیل


تقریب میں امریکی سفیر کیمرون منٹر صوبائی وزیر تعلیم سردار بابک کے ہمراہ اساتذہ اور بچوں سے گفتگو کررہے ہیں۔

تقریب میں امریکی سفیر کیمرون منٹر صوبائی وزیر تعلیم سردار بابک کے ہمراہ اساتذہ اور بچوں سے گفتگو کررہے ہیں۔

بین الاقوامی امداد کے امریکی ادارے یو ایس ایڈ کے مالی تعاون سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخواہ میں مالاکنڈ کے اضلاع میں گزشتہ تین سال سے تقریباً سات سو اسکولوں میں درس وتدریس اور انتظامی سہولتیں بہتر کرنے کا کام جاری تھا۔

ان دونوں منصوبوں کی تکمیل کے موقع پر اسلام آباد میں منگل کو ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی جس کے مہمان خصوصی امریکی سفیر کیمرون منٹر اور خیبر پختونخواہ کے وزیر تعلیم سردار حسین بابک تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفیر نے کہا کہ فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں کی جانے والی یہ مشترکہ کوششیں پاک امریکہ دوستی کی علامت ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان دونوں منصوبوں کی تکمیل کے بعد مالا کنڈ اور فاٹا کے سات سو اسکولوں میں زیر تعلیم ساڑھے چار لاکھ طلبا کو نئی کتابیں، کمپیوٹراور فرنیچر کی سہولتیں حاصل ہوگئی ہیں جب کہ انتظامی شعبوں میں کام کرنے والے ایک ہزار افراد کو بھی تعلیمی اصلاحات کے نفاذ کے لیے بہتر تربیت دی گئی ہے۔

امریکی سفیر نے کہا کہ ایک بہتر تعلیمی نظام کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے اور تعلیم کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ امریکہ کی شراکت داری کا مقصد اسے اور اس کی عوام کو مضبوط بنانا ہے۔

تقریب میں تربیت پانے والے اساتذہ ، تدریسی منتظمین، طلبا اور ان کے والدین کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

مہمند ایجنسی کے ایک اسکول کی استانی ثمینہ یوسف نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یو ایس ایڈ نے ان کے اسکولوں کو جو سہولتیں فراہم کیں اس سے علاقے میں تعلیم کے فروغ میں بڑی مدد ملی ۔”اس منصوبے کے آغاز کے بعد ہمارے اسکول میں چارسو سے پانچ سو داخلے زیادہ ہوگئے ہیں۔ والدین جب دیکھتے ہیں کہ ان کی بچیوں کو بہتر تعلیمی سہولتیں اور ماحول مہیا ہورہا ہے تو پھر وہ خوشی سے لا رہے ہیں بچیوں کو۔“

یو ایس ایڈ نے اندرون ملک نقل مکانی کرنے والے افراد کے 27کیمپوں میں مقیم تقریباً 23ہزاربچوں کے لیے بھی اسکول قائم کیے۔

باجوڑ میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران بے گھر ہوجانے والے ایک طالب علم محمد ایوب نے بتایا کہ وہ ان اسکول فوجی آپریشن کے دوران تباہ ہوگیا تھا اور جب وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ نقل مکانی کرکے کیمپ میں پہنچے تو یہاں یو ایس ایڈ نے خیمہ اسکول میں ان کی تعلیم کا بندوبست کیا۔”ابھی ہم اپنے گھر واپس آگئے ہیں لیکن اسکول کی عمارت ابھی نہیں بنی جس وجہ سے ہم یہاں پر قائم خیمہ اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔“

محمد ایوب

محمد ایوب

محمد ایوب نے بتایا کہ علاقے میں بے روزگاری بہت ہے اور لوگ پہلے تعلیم کی طرف اتنی توجہ بھی نہیں دیتے تھے اور اکثر لڑکے طالبان کے ساتھ مل جاتے تھے مگر ان کے بقول حالات بدل رہے ہیں۔

غلنئی سے آئے ہوئے ڈاکٹر شاد محمد کی اہلیہ مقامی اسکول میں پڑھاتی ہیں اور ان کی بڑی بیٹی گزشتہ سال طلبا کے تبادلہ پروگرام کے تحت امریکہ کا دورہ کرچکی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شاد نے کہا”میری بیٹی پہلے کسی سے بات نہیں کرسکتی تھی اور اب ماشااللہ اس کے سامنے کوئی بات نہیں کرسکتا۔ اس کی سوچ بہت وسیع ہوگئی ہے اور دلیل کے ساتھ بات کرتی ہے۔ میں کہوں گا کہ یو ایس ایڈ کے ایسے منصوبے ہونے چاہیئں کیونکہ اس سے سوچ میں وسعت اور مثبت تبدیلی آتی ہے۔“

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم سردار حسین بابک نے امریکی سفیر اور یو ایس ایڈ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے لہذا کوئی بھی کام کرنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد درکار ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت تعلیم خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم کو عام کرنے اور اس بارے میں شعور اجاگر کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔

XS
SM
MD
LG