رسائی کے لنکس

بولٹن مارکیٹ کے متاثرین کے لیے امریکی حکومت کی امداد


بولٹن مارکیٹ کے متاثرین کے لیے امریکی حکومت کی امداد

بولٹن مارکیٹ کے متاثرین کے لیے امریکی حکومت کی امداد

کونسل کی جانب سے نیشنل ٹیکس نمبر رکھنے والوں اور باقاعدگی سے محصولات ادا کرنے والوں کو چھ لاکھ روپے کے چیک دیے گئے ہیں جبکہ د یگر کے لیے یہ رقم چار لاکھ روپے ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے کراچی میں بولٹن مارکیٹ متاثرین کی بحالی کے لیے ایک کروڑ ڈالر نقد امداد فراہم کرنے کے منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت منگل کو یہاں ایک تقریب کے دوران متاثر ہونے والے 20 تاجروں کو پہلے مرحلے میں چیک تقسیم کیے گئے۔

واضح رہے کہ امریکی اداراہ برائے بین ا لاقوامی ترقی کی جانب سے یہ امدا د 4.12 ملین ڈالرکی اس رقم میں اضافہ ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومت نے کراچی چیمبر آف کامرس کے توسط سے ان تاجروں کو دی ہے۔پاکستانی حکومت کی جانب سے تاجروں کو ملنے والی یہ مالی امداد سامان اور عمارتی نقصان کو پورا کرنے کے لیے دی گئی ہے جبکہ امریکی حکومت کی امداد آتش زدگی کے بعد سے کاروبار بند رہنے کی وجہ سے ہونے والے نقصان کی تلافی میں معاونت کرے گی۔

سعد امان اللہ امریکن بزنس کونسل کی جانب سے قائم کی گئی بولٹن مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔امداد کی فراہمی کے طریقہ کار سے آگاہ کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ 1800 متاثرین کی جانب سے کلیم فارم داخل کرائے گئے ہیں جن میں سے 1200 کی تصدیق کی جاچکی ہے جبکہ باقی 600 فارم ابھی جانچ پڑتال کے مرحلے میں ہیں۔

کونسل کی جانب سے نیشنل ٹیکس نمبر رکھنے والوں اور باقاعدگی سے محصولات ادا کرنے والوں کو چھ لاکھ روپے کے چیک دیے گئے ہیں جبکہ د یگر کے لیے یہ رقم چار لاکھ روپے ہے۔سعد امان اللہ کے مطابق دیگر متاثرین کو بذریعہ ڈاک مطلع کیا جائے گا اور پھر وہ طے شدہ مقام سے اپنے چیک وصول کریں گے اور چیکوں کی تقسیم کا یہ سلسلہ مئی تک مکمل کر لیاجائے گا اور کوئی بھی متاثرہ تاجر اس امداد سے محروم نہیں رہے گا۔

اس موقع پر کراچی میں امریکی قونصل جنرل سٹیفن فکن نے اپنی تقریر میں کہا کہ کراچی میں ہونے والی تباہی سے نہ صرف تاجر برادری اور کاروبار سے منسلک تمام افراد متاثر ہوئے ہیں بلکہ پورے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا ہے اور امریکی حکومت کو اس کا احساس ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت ہمیشہ تشدد اور دہشت گردی کی مخالفت کرے گی جس سے پاکستان میں لوگوں اور املاک کو نقصان پہنچے۔ اس لیے امریکی حکومت عاشورہ دھماکے کے بعد ہونے والی تباہی سے متاثر لوگوں کی بحالی کے لیے پرعزم ہے ۔

انھوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ایک ماہ کے قلیل عرصے میں نہ صرف یہ پروگرام ترتیب دیا گیا بلکہ کلیم فارمز کی وصولی کا مرحلہ بھی مکمل ہوا۔ان کا کہنا تھا دی گئی امداد سے ان تاجروں کو گذشتہ سات ہفتوں کے دوران ہونے والے نقصان کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور ان لوگوں کے
دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے سے کروڑوں پاکستانیوں کو فائدہ پہنچے گا۔

چیک کی وصولی کے بعد وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے تاجروں کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کا کافی نقصان ہوا اور دیا گیا ریلیف اسے پورا کرنے کے لیے کافی نہیں لیکن وہ پھر بھی اس مدد پر مطمئن ہیں کیوں کہ اپنے کاروبار کے نقصان کے بعد انھیں امداد کی کوئی امید نہیں تھی مگر حکومت کی جانب سے بھی انھیں اپنے کاروبار کو بحال کرنے کے لیے فوری معاونت ملی اور امریکن بزنس کونسل نے بھی نقصان کے ازالے میں اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ ان کاکہنا تھا کہ بولٹن مارکیٹ میں تجارتی سرگرمیاں ایک بار پھر اپنی پرانی روش پر لوٹتی دکھائی دے رہی ہیں ۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال 28 دسمبر کوپاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں عاشورہ کے مرکزی جلوس میں بم دھماکے کے بعد شرپسند عناصر کی جانب سے ایم اے جناح روڈ پر ملک کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ کو آگ لگا دی گئی تھی جس سے نہ صرف ملکی معیشت کواربوں روپے کا نقصان ہوا تھا بلکہ ہزاروں افراد کا کاروبار مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔

XS
SM
MD
LG