رسائی کے لنکس

ہوائی اڈوں پر تلاشی کے نئے امریکی ضابطوں کا ایک جائزہ

  • محمد الشناوی

شہری حقوق کی حفاظت میں سرگرم عرب اور مسلمان امریکیوں کی نمائندگی کرنےوالی تنظیموں اور افراد نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کے حالیہ فیصلے سے جس کے تحت ایک درجن سے زیادہ عرب اور مسلمان ملکوں سے امریکہ آنے والے لوگوں کی زیادہ سختی سے جانچ کی جائے گی، امتیازی سلوک پر مبنی اورغیر موئثر طریقوں کو فروغ ملے گا۔

جنوری میں اوباما انتظامیہ نے اعلان کیا کہ ہوائی جہازوں سے امریکہ آنے والے 14 ملکوں کے شہریوں کی، جن میں سے بیشتر مسلمان ہیں، ایئر پورٹس پر زیادہ سختی سے چیکنگ کی جائے گی۔ اس میں مسافروں کے پورے جسم کو ہاتھ سے تھپتپا کر چیک کرنا یا مشین سے جسم کی اسکیننگ شامل ہے۔

وائٹ ہاؤس کی نیوز کانفرنس میں ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیرجینٹ نیپولیتانو Janet Napolitano نے نئے اقدامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا’’دنیا میں کسی بھی جگہ سے امریکہ آنے والے ایسے ہر فرد کے لیے جس کے سفر کے پروگرام میں ایسا کوئی ملک شامل ہے یا جس کے پاس ایسے کسی ملک کا پاسپورٹ ہے جو دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے یا ایسے ملکوں سے تعلق رکھنے والے مسافر جن میں امریکہ کو دلچسپی ہے انہیں زیادہ سخت اسکریننگ کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی پروازوں سے امریکہ آنے والے دوسرے تمام مسافروں کی اکثریت میں سے بعض مسافروں کو کسی خطرے کی بنیاد پر کسی ترتیب کے بغیر زیادہ سخت چیکنگ کے لیے الگ کر لیا جائے گا۔‘‘

سکیورٹی کے یہ زیادہ سخت اقدامات گذشتہ دسمبر میں ہونے والے اس واقعے کے بعد کیے گئے جس میں نائجیریا کے ایک باشندے نے مبینہ طور پر کرسمس کے روز ایمسٹرڈم سے ڈیٹرائٹ جانے والی پرواز کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ نئے ضابطوں کے مطابق، نائجیریا، افغانستان، الجیریا، لبنان، لیبیا، عراق، پاکستان، سعودی عرب، صومالیہ اور یمن کے تمام شہریوں کو امریکہ آنے والے ہوائی جہاز میں سوار ہونے سے پہلے جسمانی تلاشی کے عمل سے گزرنا ہوگا اور ان کے سامان کی اضافی چیکنگ کی جائے گی۔ کیوبا، ایران، سوڈان اور شام کے شہریوں کے لیے بھی یہی ضابطے ہیں۔ امریکی محکمہء خارجہ نے ان ملکوں کو دہشت گردی کی سر پرستی کرنے والے ملک قرار دیا ہے۔

لیکن امریکن سول لبرٹیز یونین میں نسلی انصاف کے پروگراموں کے ڈائریکٹر ڈینس پارکر Dennis Parker کا خیال ہے کہ ایئر پورٹ سکیورٹی کے نئے ضابطے غلط پالیسی پر مبنی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ پیش گوئی کرنا نا ممکن ہے کہ کسی دہشت گرد کا تعلق کسی خاص ملک سے ہوسکتا ہے اور بہت سے دہشت گردوں کا تعلق ایسے ملکوں سے ہے جو اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔پارکر مزید کہتے ہیں کہ نسل کی بنیاد پر کسی پر شبہ کرنا اور تمام مسافروں کے جسم کی اسکیننگ کرنا نہ صرف امریکی اقدار اور حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے قیمتی وسائل اور توجہ القاعدہ کے اصل خطرے سے ہٹ کر دوسری طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا’’القاعدہ کی تنظیم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم جو اقدامات کرتے ہیں وہ بڑی کامیابی سے ان کے مطابق خود کو ڈھال لیتی ہے اور وہ اب بھی ایسا ہی کرے گی۔ در اصل ایسے اقدامات کیے جانے چاہئیں جو انفرادی خطرے میں زیادہ موئثر ہوں۔ کرسمس کے روز بم استعمال کرنے کی کوشش کرنے والا، اس کی اچھی مثال ہے ۔ اس کے خطرناک ہونے کے بارے میں بہت سی معلومات موجود تھیں لیکن ان پر غور نہیں کیا گیا۔‘‘

پارکر نے اوباما انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایئر پورٹ سکیورٹی کی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ وہ کہتے ہیں’’ہم بہت سے اقدامات کر سکتے ہیں جن سے لوگوں کے نجی امورمیں مداخلت نہیں ہوگی اور جن سے یہ تاثر بھی نہیں ملے گا کہ ہم مسلمان ملکوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ صرف یہ کہنے سے کہ چونکہ بہت سے دہشت گرد مسلمان تھے اس لیے تمام مسلمانوں کو چیک کرنا چاہیئے ، میرے خیال میں بہت سے وسائل ضائع ہوں گے اور دنیا بھر کے مسلمانوںمیں امریکہ کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوگا۔‘‘

عرب امریکن انسٹی ٹیوٹ کے صدر James Zogby کا خیال ہے کہ یہ پالیسی صدر اوباما کے اس واضح مقصد کے خلاف ہے کہ باہم مفاد اور احترام کی بنیاد پر مسلمان دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کیے جائیں۔ وہ کہتے ہیں’’مجھے ڈر ہے کہ اس پالیسی کا منفی اثر ہوگا کیوں کہ ہم نے رائے عامہ کے جو جائزے لیے ہیں ان میں ایک نمایاں بات یہ سامنے آئی ہے کہ لوگ جب امریکہ آتے ہیں تو ان کے ساتھ خراب سلوک کیا جاتا ہے اور یہ اندیشہ بھی موجود ہے کہ تارکین وطن کے ساتھ امریکہ میں اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔ اس مسئلے پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘

Zogby نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ بہت زیادہ سخت پالیسوں سے جن میں لوگوں کو قومی تشخص، نسل، اور مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے، عرب اور مسلمان امریکی کمیونٹیوں میں ناراضگی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں جب کہ امریکہ کو دہشت گردی کے خطرے سے بچانے میں ان کا تعاون ضروری ہے۔

لیکن ٹرانسپورٹیشن سیفٹی ایڈمنسٹریشن یا TSA نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ نئے ضابطوں کے نتیجے میں نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے ۔ TSA کے ترجمان Greg Soule نے اس رپورٹ کے لیے انٹرویو دینے سے انکار کیا لیکن ایک تحریری بیان میں انھوں نے کہا کہ TSA کسی کے ساتھ نسل یامذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کرتی۔ TSA سکیورٹی کے جو اقدامات کرتی ہے ان کی بنیاد ہمیشہ کوئی خطرہ ہوتا ہے، مذہبی یا نسلی پس منظر نہیں۔

تا ہم امریکن سول لبرٹیز یونین کے ڈینس پارکر کا مشورہ ہے کہ امریکہ کو وہ طریقے استعمال کرنے چاہئیں جو اسرائیلی ایئر پورٹس پر استعمال کیئے جاتے ہیں۔ El Al کا شمار دنیا کی محفوظ ترین ایئر لائنز میں ہوتا ہے۔ اس ایئر لائن نے بہت برسوں کی محنت کے بعد ایسے طریقے وضع کیے ہیں جو مسافروں کے طرز عمل پر مبنی ہوتےہیں، نہ کہ ان شکل و شباہت، لباس یا قومی تشخص پر۔

XS
SM
MD
LG