رسائی کے لنکس

اتحادی افواج پہ افغان اہلکاروں کے حملوں پر تشویش


اتحادی افواج پہ افغان اہلکاروں کے حملوں پر تشویش

اتحادی افواج پہ افغان اہلکاروں کے حملوں پر تشویش

اِن حملوں کے پیشِ نظر بدھ کو امریکی قانون سازوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے خلاف اِن اندرونی حملوں کے سدِ باب کے لیے افغان فوجیوں کے بھرتی کے عمل کو موثر بنایا جائے

افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج پر افغان فوجیوں کے حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث افغان فورسز کی ملکی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اہلیت سے متعلق خدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔

اِن حملوں کے پیشِ نظر بدھ کو امریکی قانون سازوں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے خلاف اِن اندرونی حملوں کے سدِ باب کے لیے افغان فوجیوں کے بھرتی کے عمل کو موثر بنایا جائے۔

اِن خدشات کے عین مطابق بدھ کو نیٹو کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی افغانستان میں ایک افغان فوجی کی فائرنگ سے ایک اور اتحادی فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ منگل کو صوبہ ہلمند کے ضلع مرجاہ میں پیش آیا۔ حکام کے بقول حملہ آور فوجی کا موقف ہے کہ اس کی فائرنگ سے اتحادی فوجی کی ہلاکت حادثاتی ہے۔

افغانستان میں حالیہ کچھ برسوں کے دوران اس نوعیت کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق 2007ء سے اب تک افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے امریکی فوجیوں پر حملے کے 40 واقعات پیش آچکے ہیں جن میں سے 75 فی صد حملے گزشتہ دو برسوں کے دوران کیے گئے۔

امریکی اعداد و شمار کے مطابق ایسے کم از کم 60 فی صد حملے ذاتی وجوہات کی بنا پر کیے گئے۔

دریں اثنا امریکی ایوانِ نمائندگان کی 'آرمڈ سروسز کمیٹی' کے سربراہ نے حملوں کے ان واقعات پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی جانچ پڑتال کا نظام "الم ناک حد تک کمزور ہے"۔

کمیٹی کی ری پبلکن چیئرمین ہاورڈ بک مک کیون نے بدھ کو کمیٹی کی ایک سماعت کے دوران امریکی محکمہ دفاع کے عہدیداران سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے افغان فوجیوں، پولیس اور دیگر اہلکاروں کی نشان دہی کے لیے مزید اقدامات کریں جو امریکی اہلکاروں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں غیر ملکی سیکیورٹی کانٹریکٹرز کے استعمال پر پابندی عائد کرکے افغان صدر حامد کرزئی نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔

کمیٹی کے روبرو بیانِ حلفی دیتے ہوئے امریکی فوج کے بریگیڈیئر جنرل اسٹیفن ٹائون سینڈ کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کی افغانستان میں ان اندرونی حملوں سے حفاظت یقینی بنانے کے لیے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ مزید امریکی فوجیوں کو افغان افواج کے ساتھ بطورِ مشیر اور استاد تعینات کیا جارہا ہے۔

XS
SM
MD
LG