رسائی کے لنکس

فریقین کے لیے قابلِ قبول معاہدے پر جلد از جلد اتفاق دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا: صدر میدویدیف

روس کے صدر دمیتری میدویدیف نے کہا ہے کہ یورپ میں نصب کیے جانے والے مجوزہ میزائل دفاعی نظام پر روس کے ساتھ معاہدے کے لیے امریکہ کے ہاتھوں سے وقت نکلا جارہا ہے۔

جمعے کو ایک تقریب سے خطاب میں روسی صدر نے کہا کہ فریقین کے لیے قابلِ قبول معاہدے پر جلد از جلد اتفاق دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دعووٴں پر روس کے تحفظات بدستور موجود ہیں کہ مجوزہ میزائل نظام کی تنصیب کا مقصد یورپ کو ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

صدر میدویدیف نے یہ بیان اپنے امریکی ہم منصب براک اوباما کے ساتھ آئندہ ہفتے جنوبی کوریا میں ہونے والی ملاقات سے قبل دیا ہے جہاں دونوں رہنما 'جوہری سلامتی' کے موضوع پر ہونے والی عالمی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

قبل ازیں، روسی صدر نے سینئر فوجی حکام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے باوجود روس کو میزائل دفاعی نظام کے امریکی منصوبے کا جواب دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

روس یورپ میں میزائل دفاعی نظام کی تنصیب کا خیال پیش کیے جانے کے بعد سے اس کی سخت مخالفت کر رہا ہے اور اسے اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا آیا ہے۔

نیٹو ممالک میزائل نظام پر روس کے تحفظات دور کرنے کی پیش کش کرتے آئے ہیں لیکن میزائل نظام کے مشترکہ کنٹرول کی روسی تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔

میزائل دفاعی نظام کی تنصیب کا معاملہ مئی میں شکاگو میں ہونے والے نیٹو کے سربراہی اجلاس میں بھی زیرِ غور آئے گا جس سے قبل کیمپ ڈیوڈ کے مقام پر دنیا کے آٹھ بڑے ممالک 'جی-8' کا سربراہی اجلاس بھی ہوگا۔

لیکن اس وقت تک ولادی میر پیوٹن روس کے صدر کا عہدہ سنبھال چکے ہوں گے اور یہ واضح نہیں کہ آیا وہ نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شریک ہوں گے یا نہیں۔

XS
SM
MD
LG