رسائی کے لنکس

استاد دلشاد برصغیر کے معروف موسیقی کے دہلوی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور وہ گزشتہ 50برسوں سے مشرقی موسیقی اور صوفی موسیقی کا مظاہرہ کررہے ہیں

برصغیر کے معروف موسیقی کے گھرانے کے چشم و چراغ، استاد دلشاد کی 50 سالہ خدمات کے اعتراف میں، واشنگٹن میں ایک خصوصی محفل موسیقی منعقد کی گئی، جس میں مشرق اور مغرب کے فنکاورں نے مشترکہ طور پر صوفی موسیقی کا مظاہرہ کیا۔

استاد دلشاد برصغیر کے معروف موسیقی کے دہلوی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ گزشتہ 50 برسوں سے مشرقی موسیقی اور صوفی موسیقی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

استاد دلشاد امیر خسرو کی طرز پر آلات موسیقی کے نت نئے استعمال پر توجہ دیتے ہیں اور آواز کی بجائے سروں سے نئی موسیقی تخلیق کرتے ہیں۔ وہ گزشتہ 25 برسوں سے امریکہ اور دنیا بھر میں اپنے فن کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

وائلن کے ذریعہ فیوژن اور صوفی میوزک کی تخلیق ان کی پہچان ہے۔ اپنے اس فن کا مظاہرہ انھوں نے امریکہ کے علاوہ لندن، فرانس، جرمنی، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں بھی کیا۔

گزشتہ برس جارج میسن یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے موسیقی کے پروگرام میں انھوں نے پہلی بار امریکی موسیقاروں کے فن کو بھی اپنی موسیقی میں شامل کیا، اس طرح مشرق و مغرب کے امتزاج سے ایک دلنشین موسیقی تخلیق کی۔

استاد دلشاد کے اس پچاس سالہ فن کی پزیرائی کے لئے منعقدہ تقریب سے خطاب میں مقررین نے انھیں زبردست خراج تحسین پیش کیا؛ جبکہ کامن گراونڈ کی جانب سے انھیں خصوصی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

تقریب کا اہتمام استاد دلشاد حسین میوزک میکر (یو ڈی ایچ کے) نے کیا تھا جس میں شریک سامعین رات گئے تک صوفی موسیقی کی دھن پر سر دھنتے رہے۔

اس موقع پر رومی کے اشعار پر بھی نئی موسیقی تخلیق کی گئی جسے سننے والوں نے استاد دلشاد اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں کو سراہا۔

وائلن پر استاد دلشاد کے صاحبزادے استاد ثمر علی نے اپنے والد کا ساتھ دیا اور محفل موسیقی میں ایک سماں سا بندھ گیا۔

XS
SM
MD
LG