رسائی کے لنکس

مرحوم کریموف کی تدفین، رسومات میں سینکڑوں افراد کی شرکت


سمر قند

سمر قند

نماز جنازہ شہر کے قدیم سلک روڈ پر واقع ریگستان چوک پر مفتی کی امامت میں ادا کی گئی، جنھوں نے کہا کہ ’’اسلام کریموف نے اپنے لوگوں کی خدمت کی‘‘۔ تدفین کے موقعے پر سینکڑوں افراد موجود تھے

طویل عرصے تک ازبکستان کی صدارت پر فائز رہنے والے رہنما، اسلام کریموف کی تدفین کی رسومات ہفتے کے روز سمر قند کے اُن کے آبائی شہر میں ادا کی گئیں۔

نماز جنازہ شہر کے قدیم سلک روڈ پر واقع ریگستان چوک پر مفتی کی امامت میں ادا کی گئی، جنھوں نے کہا کہ ’’اسلام کریموف نے اپنے لوگوں کی خدمت کی‘‘۔ تدفین کے موقعے پر سینکڑوں افراد موجود تھے۔

میت کو سادہ کفن میں ڈھانپ کر قبر میں اتارا گیا، جس پر رنگین ٹائلز ڈھانب دی گئیں۔ مرحوم کو شہر کے ’شاہِ زندہ‘ قبرستان میں دفن کیا گیا۔

ہفتے کے روز علی الصبح ہزاروں کی تعداد میں لوگ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کی سڑکوں پر اپنے مرحوم رہنما کے آخری دیدار کے لیے جمع تھے، جلوس میں لوگوں کی تعداد بڑھتی گئی۔

جمعے کو صدر اسلام کریموف انتقال کر گئے تھے جس کا اعلان ازبکستان کی حکومت اور پارلیمان نے جمعہ کے روز ایک مشترکہ بیان میں کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ 78 سالہ کریموف کی تدفین کی رسومات تین ستمبر کو اُن کے آبائی شہر سمر قند میں منعقد ہوں گی۔

صدر کریموف کی موت پر ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

دماغ کی شریان پھٹنے کے سبب کریموف کو اسپتال میں منتقل کرنا پڑا اور اُن کی موت کی سرکاری پر تصدیق سے قبل مختلف طرح کی خبروں کی وجہ سے بے یقینی کی سی صورت حال تھی۔

اُن کی تدفین کی رسومات کی سرکاری تقریب کے انعقاد کے لیے قائم کمیشن کا سربراہ ملک کے وزیراعظم شوکت مرزیوییف کریں گے۔

اگرچہ صدر کریموف نے کسی کو اپنا جانشین تو مقرر نہیں کیا تھا اور نا ہی ملک میں حزب مخالف کا کوئی منظم وجود ہے۔ البتہ توقع کی جا رہی کہ ملک کے وزیراعظم اس منصب کے ایک امیدوار ہوں گے۔

صدر کریموف کا دور ایک سخت گیر حکمران کے طور پر تھا، جہاں نا صرف حزب مخالف کو پنپنے نہیں دیا گیا بلکہ میں ذرائع ابلاغ پر بھی سخت حکومتی کنٹرول تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل موصول ہونے والی اطلاعات میں جمعہ کو بتایا گیا تھا کہ ملک کے صاحب فراش صدر اسلام کریموف کی حالت تشویشناک ہے۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا تھا کہ "عزیز ہم وطنوں، نہایت بوجھل دل کے ساتھ آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ہمارے صدر کی صحت گزشتہ 24 گھنٹوں میں تیزی سے بگڑتے ہوئے تشویشناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔"

اس بیان سے قبل ہی یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ 27 سالوں سے اقتدار پر براجمان صدر کریموف بستر مرگ پر ہیں یا ان کا انتقال ہو چکا ہے۔

ان کی بیٹی لولا نے رواں ہفتے کے اوائل میں بتایا تھا کہ 78 سالہ صدر کے دماغ کی شریان پھٹ گئی تھی۔

کریموف 1989ء کے بعد سے ملک کے بلاشرکت غیرے صدر رہے ہیں جنہوں نے حزب مخالف پر دباؤ برقرار رکھا۔

اگست کے وسط سے وہ منظر عام پر نہیں تھے اور گزشتہ ہفتے کے اواخر میں ہی حکومت نے اعتراف کیا تھا کہ صدر کی طبیعت ناساز ہے۔

جمعرات کو ہی ازبکستان کا یوم آزادی منایا گیا تھا۔

اس بارے میں بھی ملک میں غیر یقینی صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدر کے انتقال کی صورت میں ازبکستان میں قیادت کے آپسی لڑائیاں شروع ہو سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG