رسائی کے لنکس

سولہ سالہ لڑکی کی اغوا کاروں سے رہائی، پولیس کے خلاف شدید الزامات

  • شہناز نفیس

16 سالہ عظمیٰ ايوب کو کرک کے ايک گاؤں سے اس وقت اغوا کيا گيا جب وہ محض نويں کلاس کي طالبہ تھيں۔ عظمیٰ کا کہنا ھے کہ انہيں گاؤں کے کچھ لوگوں نے مقامي پوليس کے ساتھ مل کر اغوا کيا تھا۔

16 سالہ عظمیٰ ايوب کو پشاور کے قریب کرَک کے ايک گاؤں سے اس وقت اغوا کيا گيا جب وہ محض نويں کلاس کي طالبہ تھيں۔ عظمیٰ کا کہنا ھے کہ انہيں گاؤں کے کچھ لوگوں نے مقامی پوليس کے ساتھ مل کر اغوا کيا تھا۔

آج پشاور ہائ کورٹ ميں برقعے ميں ملبوس ، چھ ماہ کي حاملہ ، عظمي ايوب انصاف مانگ رہي تھيں۔ وائس آف امريکہ سے انٹرويو ميں عظمي نے اغوا کا احوال سناتے ہوئے کہا کہ مقامي پوليس نے اسکو زبردستي گھر سے اٹھايا اور ان لوگوں کے سپرد کيا جو عظمي سے شادي کرنا چاہتے تھے۔

عظمي نے بتايا کہ حراست کے دوران کئ دفعہ اسے جنسي تشدد کا نشانہ بنايا گيا۔ ’ وہ مجھ سے مطالبہ کر رہيے تھے کہ ميں اس سے شادي کروں ، ميرے انکار پرانہوں نے مجھے جنسي تشدد کا نشانہ بنايا۔ ميں بہت چيخي ليکن انہوں نے ميري ايک نہ سني ، آج ميں انصاف مانگنے گئ تھي ، کورٹ سے ، سپريم کورٹ سے اور تمام لوگوں سےٴ‘۔

عظمي ايوب کو اغوا کرنے کے چند ماہ بعد کسي اور کے ہاتھوں بيج ديا گيا۔ عظمي بتاتي ہيں کہ ’ ميں نے روتے ہوے کئ دفعہ فریاد کی کہ مجھے گھر لے جايا جائے ۔ ليکن انہوں نے مجھے ايک چھوٹے سے کمرے ميں بند رکھا۔ يہ دھاڑي والے لوگ تھے جو سر پر پگڑي رکھے ہوئے تھے۔ايک دن انہوں نے مجھے کہا کہ تيار ہو جاؤ اور ہم تمھے ڈي آئی خان لے جا رہے ھيں۔‘

اور يوں عظمي ايوب کو ايک دفعہ پھر کسي اور کے ہاتھوں بيج ديا گيا۔ گزشتہ ماہ عظمي ان کے گھر سے بھاگنے ميں کامياب ہوئ۔ اور child protection cell ميں ايک ماہ گزارنے کے بعد ، جمعرات کے روز عظمي کو خواتين کے حقوق کے لے سرگرم عمل COMMISSION ON WOMEN RIGHTS کے حوالے کر ديا گيا ۔

عظمي ايوب کے اغوا کے بعد گھر کا احوال ، انکے بھائ عالم زيب نے وائس آف امريکہ کي اردو سروس کو بتاتے ہوئے کہا کہ عظمیٰ کو گھر سے اٹھائے جانے کے بعد اسکي ماں نے تھانے کا رخ کيا اور وہاں پر تمام دن رونے کے بعد رات کے بارہ بجے انھيں زبردستي تھانے سے نکال ديا گيا۔ ٴعالم زيب نے مذيد بتاياکہ عظمي کے اغوا بعد ان کي ماں بيمارپڑ گئ جبکہ باپ ہر وقت پريشان رہتے تھے۔

عظمي ايوب کے بھائ عالم زيب کہتے ھيں کہ انہيں پوليس اور اپنے گاؤں کے بعض لوگوں سے خطرہ ہے اور انہيں کھلے عام دھمکياں مل رہي ہيں۔

ايک سوال کے جواب ميں عظمي کے بھائ نے بتايا کہ اگر اس کي بہن کو انصاف نہ ملا تو بقول انکي بہن کے وہ خود کو کورٹ کے سامنے زندہ جلا دينگي۔

دوسري جانب زبيدہ خا تون نے ، جو Commission on Status of Women کي سربراہ ہيں، وائس آف امريکہ کو بتايا کہ ان کے ادارے کي طرف سے تحقيقات کے مطابق عظمي بلکل مظلوم ہيں اور ان کا ادارہ اس کيس کو اس لئے زيادہ توجہ دے رہا ہے کيونکہ بقول انکے اس کيس ميں بہت سے عوامل شامل ہيںٴ.

Provincial Commission on Status of Women سے منسلک ، مريم بي بي نے وائس آف امريکہ کو بتايا کہ صوبائ حکومت عظمي ايوب کے کيس پر نظر رکھي ہوئ ہے اور يقين دہاني کرائ کہ ان کے ہر طرح سے مدد کي جائے گي اور اگر حکومتي ادارے اس ميں ملوث پائے گے تو ان کو انصاف کے کٹہرے ميں ضرور لايا جاے گا۔

پشاور ہائ کورٹ ميں ، عظمي ايوب کا پہلا بيان ستمبر19 کو قلم بند کيا گيا تھاٴتاہم کورٹ يا حکومت کي طرف سے کوئ پيش رفت يا تحقيقاتي رپورٹ سامنے نہيں آئ ہے۔ جسکي وجہ سے صوبے ميں موجود حقوق انساني کے ادارے اور ديگر سماجي کارکن ، حکومت اور کورٹ پر نکتہ چيني کر رہے ہيںَ۔

XS
SM
MD
LG