رسائی کے لنکس

ویلی فیور کی علامات میں بخار، کھانسی اور سر درد کے ساتھ ساتھ جوڑوں میں درد بھی شامل ہے۔

ہم میں سے سبھی نے گردن توڑ بخار کی اصطلاح سن رکھی ہے مگر امریکہ میں گذشتہ کئی دہائیوں سے ’ویلی فیور‘ عام ہے جس کے باعث ہر سال بہت سے لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

آن لائن ویب سائیٹ ’ڈیلی بیسٹ‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق ’ویلی فیور‘ بخار کی ایک انتہائی مہلک قسم ہے جو انسان کی موت کا باعث بن سکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ’ویلی فیور‘ کا فی الحال کوئی توڑ سامنے نہیں آ سکا ہے اور اسے ’خاموش قاتل‘ بھی کہا جا رہا ہے۔

یونیورسٹی آف ایریزونا کے مطابق ویلی فیور میں مبتلا ہونے کی وجہ اس ماحول میں رہنا ہے جہاں فضاء میں پھپھوندی کی بُو یا ذرات موجود ہوتے ہیں جس کے باعث انسان ’ویلی فیور‘ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکی ریاست ایریزونا میں ہر برس 30 سے 40 افراد ’ویلی فیور‘ کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

’ویلی فیور‘ کو سائنسی زبان میں ’کوکی ڈیوڈومیسس‘ کہا جاتا ہے جبکہ عرف ِعام میں اس کے لیے ’ویلی فیور‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گو کہ ’ویلی فیور‘ ایک شخص سے دوسرے کو منتقل نہیں ہو سکتا مگر پھر بھی ویلی فیور کے کیسز میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

1995ء میں ویلی فیور میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد 5,000 تھی جبکہ 2011ء تک یہ تعداد 20,000 ہو چکی تھی۔

طِبّی ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 150,000 افراد میں ’ویلی فیور‘ کی تشخیص نہیں ہو پاتی۔

امریکہ میں ’ویلی فیور‘ کے تقریباً 70٪ کیسز ریاست ایریزونا اور کیلی فورنیا میں سامنے آتے ہیں۔

یونیورسٹی آف ایریزونا کے مطابق ویلی فیور میں مبتلا ہونے کی وجہ اس ماحول میں رہنا ہے جہاں فضاء میں پھپھوندی کی بُو یا ذرات موجود ہوتے ہیں جس کے باعث انسان ’ویلی فیور‘ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکی ریاست ایریزونا میں ہر برس 30 سے 40 افراد ’ویلی فیور‘ کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویلی فیور کوئی نئی چیز نہیں ہے اور اس کے ابتدائی کیسز 50ء کی دہائی میں سامنے آئے تھے۔

ویلی فیور کی علامات میں بخار، کھانسی اور سر درد کے ساتھ ساتھ جوڑوں میں درد بھی شامل ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے تک ابھی تک کوئی ویکسین یا طریقہ ِ علاج دریافت نہیں کیا جا سکا ہے۔
XS
SM
MD
LG