رسائی کے لنکس

ایسے میں مجھے ایک بچے کا اپنے والد سے یہ سوال بے چین کیے جا رہا ہے کہ ’’بابا بچوں کے ساتھ ایسا کیوں ہوا اور ہماری وین میں تو کہیں ایسا نہیں ہو گا۔‘‘

دنیا میں شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جو تکلیف دہ خبر سن کر اضطراب کو شکار نا ہوتا ہو۔

آج صبح معمول کے مطابق اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملک میں ہونے والے بڑے واقعات کی کھوج شروع کی ہی تھی کہ ان ابتدائی اطلاعات نے ذہن کو کچھ دیر کے شل کر دیا۔

گجرات کے علاقے کوٹ فتح میں صبح اسکول جانے والے بچوں کی وین میں گیس سلینڈر کے دھماکے نے جہاں اس میں سوار کم از کم 16 بچوں کی زندگیوں کے چراغ گل کر دیے وہیں اُن کے والدین کا آشیانہ بھی اجڑ گیا۔


اب اس واقعہ کے چند گھنٹے بعد سوچتا ہوں کاش میں نے تباہ حال وین، زندہ بچ جانے والے بچوں کی معصوم و دل دہلا دینے والی باتوں میں چھپے درر، سڑک پر بکھری کتابوں اور دم توڑنے والے بچوں کے والدین کی آہ و زاری نا سنی ہوتی۔

کوشش کے باوجود کیسے ان تصاویر اور آوازوں سے پیچھا چھڑاؤں۔ میں تو اس ساری کیفیت سے اب تک باہر نہیں نکل پایا ہوں لیکن مجھے یہ خوفناک و سبق آموز خبر ملک میں ہونے والی سیاسی ہلچل اور دیگر خبروں میں مدھم ہوتی نظر آ رہی ہے۔

ایسے میں مجھے ایک بچے کا اپنے والد سے یہ سوال بے چین کیے جا رہا ہے کہ ’’بابا بچوں کے ساتھ ایسا کیوں ہوا اور ہماری وین میں تو کہیں ایسا نہیں ہو گا۔‘‘

روزانہ اسکول جانے والے بچے ایسی ہی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں جن میں گیس کے سلینڈر نصب ہوتے ہیں۔ اگرچہ ملک میں اس سے قبل بھی گاڑیوں میں ایسے دھماکے ہو چکے ہیں جن کے بعد ایسے ہولناک واقعات کے تدارک کے لیے اعلانات تو ہوئے لیکن عملی اقدامات نہیں۔

کون اس بات کو یقینی بنائے کہ ناقص سلینڈر والی گاڑیوں کو گیس فراہم نا کی جائے۔۔۔ ابھی تو جواب ملتا نظر نہیں آتا۔
XS
SM
MD
LG