رسائی کے لنکس

امریکہ اور چین دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں: ویت نام


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ویت نامی اخبار تیول تری میں جمعہ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جنرل فنگ کوانگ تنہہ نے قانون سازوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ویت نام امن و استحکام کا خواہاں ہے تاکہ (ان کا) ملک ترقی کر سکے۔

ویت نام کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ اور چین دونوں کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہے اور ایک ملک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دے گا۔

ویت نامی اخبار تیول تری میں جمعہ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جنرل فنگ کوانگ تنہہ نے قانون سازوں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ویت نام امن و استحکام کا خواہاں ہے تاکہ (ان کا) ملک ترقی کر سکے۔

"چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات ہماری سلامتی کے لیے ضروری ہیں اگر (ہم) دونوں ممالک کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں تو پھر ایک متوازن حیثیت کے ساتھ (ہم) خود انحصاری اور آزادی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ (ہم) ایک ملک کی مخالفت میں دوسری بڑی طاقت کا ساتھ نہیں دے سکتے ہیں"۔

تنہہ نے جمعرات کو بھی قومی اسمبلی کے ارکان کو بتایا تھا کہ ویت نام بحیرہ جنوبی چین میں تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتا ہے۔

ویت نام اور چین کے درمیان تعلقات کئی سالوں میں اس وقت کم ترین سطح پر آ گئے جب گزشتہ سال چین کی طرف سے بحیرہ جنوبی چین کے متنازع سمندری پانیوں میں تیل کی تنصیبات کا آغاز کیا گیا تھا۔

ویت نام اور چین دونوں پاراسلز جزائر پر ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ویت نام کی جنگ ختم ہونے کے ایک سال بعد 1974 میں چین نے امریکہ کی حمایت یافتہ جنوبی ویت نامی بحریہ کو بے دخل کر کے ان پر قبضہ کر لیا تھا۔

ویت نام اور چین کی طرح فلپائن، برونائی، ملائیشیا اور تائیوان بھی سپراٹلی جزائر کے جزوی یا کلی حصوں پر ملکیت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ یہ جزائرمصروف بین الاقوامی سمندری گزرگار پر واقع ہیں جو تیل، گیس اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں۔

گزشتہ 18 ماہ کے دوران چین کی طرف سے سات مصنوعی جزیروں کی تعمیر اس خطے اور امریکہ کی طرف سے شدید تحفظات کی وجہ بنی ہے۔

XS
SM
MD
LG