رسائی کے لنکس

صدارتی انتخابات میں ہوگو شاویز کے چنے ہوئے جانشین اور قائم مقام صدر نکولس مادورو اور حزب ِ اختلاف کے لیڈر ہینرک کیپرائلز مد ِ مقابل ہیں۔

وینزیولا کے باشندے آنجہانی صدر ہوگو شاویزکے جانشین منتخب کرنے کی غرض سے ایک نئے صدر کے چناؤ کے لیےووٹ ڈال رہے ہیں۔ صدارتی انتخابات میں ہوگو شاویز کے چنے ہوئے جانشین اور قائم مقام صدر نکولس مادورو اور حزب ِ اختلاف کے لیڈر ہینرک کیپرائلز مد ِ مقابل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا میں انتخابی مہم تلخ رہی ہے جس میں دونوں ہی امیدواروں نے ایک دوسرے کے لیے سخت الفاظ استعمال کیے اور ایک دوسرے کی تضحیک اور توہین کا کوئی پہلو ہاتھ سے نہ جانے دیا ۔

پچاس سالہ نکلولس مادورو ایک سابق بس ڈرائیور ہیں جبکہ وہ وینزویلا کے وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں۔ گو کہ انہوں نے اپنی صدارتی مہم کا آغاز رائے عامہ کے جائزوں میں برتری سے شروع کیا تھا لیکن برتری انتخابات کے انعقاد تک خاصی کم ہو چکی ہے۔

چالیس سالہ ہینرک کیپرائلز ریاستی گورنر ہیں جنہیں گزشتہ برس کے انتخابات میں ہوگو شاویز سے گیارہ فیصد پوائنٹس سے شکست ہوئی تھی ۔ ہینرک کیپرائلز نے نکولس مودورو اور شاویز حکومت پر وینزویلا کے اقتصادی مسائل، خوراک کی قلت اور بڑھتے ہوئے جرائم کی شرح کو روکنے اور کم کرنے کے لیے ناکافی اقدامات کے الزامات لگائے ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے نکولس مادورو پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے لیے ریاستی میڈیا اور حکومتی نمائندوں کو اپنی مہم کی تشہیر کے لیے استعمال کیا۔ لیکن وینزویلا میں ووٹنگ کا عمل عموما شفاف اور غیر جانبدار تصور کیا جاتا ہے۔

وینزویلا میں تقریبا ایک کروڑ نوے لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔
XS
SM
MD
LG