رسائی کے لنکس

شاویز کے بعد وینزویلا کا مستقبل


نائب صدر نکولس مدورو

نائب صدر نکولس مدورو

مدورو مزدور یونین کے رہنما رہ چکے ہیں جب کہ وہ چھ سال تک ملک کے وزیرخارجہ کے عہدے پر بھی فائر رہ چکے ہیں۔

وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز کی کینسر کے باعث موت کے بعد ہونے والے انتخابات اس بات کا تعین کریں گے کہ شاویز کا سوشلسٹ انقلاب ان کے بغیر بھی قائم رہ سکتا ہے یا نہیں۔ یہاں آئندہ انتخابات کا انعقاد 30 روز میں ہونا ضروری ہے۔

نائب صدر نکولس مدورو کو شاویز نے اپنا جانشین منتخب کیا تھا لیکن ان کے لیے مرانڈا کے گورنر ہنریک کپرلیس ان مضبوط حریف ثابت ہوسکتے ہیں۔ کپرلیس کو اکتوبر 2012ء کے انتخابات میں شاویز سے شکست ہوئی تھی۔

50 سالہ مدورو نے منگل کو شاویز کی موت کا اعلان کرتے ہوئے وینزویلا کے عوام پر اپنے ’’عظیم رہنما‘‘ کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے عزم اور ہمت سے کام لینے پر زور دیا تھا۔

مدورو مزدور یونین کے رہنما رہ چکے ہیں جب کہ وہ چھ سال تک ملک کے وزیرخارجہ کے عہدے پر بھی فائر رہ چکے ہیں۔

ہیوگو شاویز کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے اور دو ماہ تک کیوبا میں زیرعلاج رہنے کے بعد وہ وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس کے فوجی اسپتال منتقل ہوئے تھے جہاں وہ منگل کو 58 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

دریں اثناء وینزویلا نے امریکہ کے دو ملٹری اتاشیوں کو ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش کے الزام میں وینزویلا چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ پینٹاگون کے ایک ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں ان الزامات کو ردکرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ وینزویلا کی حکومت کو کسی بھی طرح غیرمستحکم کرنے کی کسی سازش میں کبھی بھی ملوث نہیں رہا۔
XS
SM
MD
LG