رسائی کے لنکس

برطانیہ کی ملکہ وکٹوریا اور ان کے ہندوستانی خدمت گار کی عجیب و غریب داستان

  • پرویز حفیظ

یہ دلچسپ کہانی تاریخ کے اوراق میں کہیں گم ہو گئی ہوتی اگر لندن میں مقیم ایک بنگالی صحافی اور مورخ نے برسوں کی تحقیق کے بعد یہ اہم کتاب نہ لکھی ہوتی۔ اس کتاب کا نام ہے Victoria & Abdul: The True Story Of The Queen’s Closest Confidant اور اسے شربانی باسو نے تحریر کیا ہے۔

یہ کتاب بہت جلد برطانیہ سے شائع ہو رہی ہے

یہ کتاب بہت جلد برطانیہ سے شائع ہو رہی ہے


یہ کتاب انیسویں صدی کے اواخر میں انگلستان کی ملکہ وکٹوریہ اور ان کے ایک ہندوستانی ملازم عبدالکریم کے انوکھے رشتے پر روشنی ڈالتی ہے۔ 1887ء میں ملکہ وکٹوریہ کے عہد کی گولڈن جوبلی کے موقع پر ان کے ذاتی خدمت گار کی حیثیت سے تاج محل کے شہر آگرہ سے 24 سال کے عبدالکریم کو لندن بھیجا گیا۔ اور دیکھتے دیکھتے یہ معمولی خدمت گار اور خانساماں ملکہ کا قریبی دوست اور معتمدِ خاص بن گیا۔ ا سے پہلے منشی کا عہدہ دیا گیا اور بعد میں اسے ملکہ کا پہلا ہندوستانی سیکریٹری ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔

تھوڑی ہی مدت میں ہی ملکہ اور عبدل ایک درسرے کے بے حد قریب آ گئے۔ ان کا یہ انوکھا اور ناقابل یقین رشتہ 13 برسوں تک رشتہ قائم رہا۔ 1901ء میں ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد ہی یہ ساتھ ٹوٹا۔ عبدل کو ملکہ کے بیٹوں نے واپس ہندوستان بھیج دیا۔

ملکہ برطانیہ اور ایک ہندوستانی ملازم کی یہ داستان بالکل افسانوی لگتی ہے۔ باسو نے شاہی آرکائیو برٹش لائبریری وکٹوریہ کی ڈائری اور اس دور کے برطانوی اخبارات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد یہ انکشاف کیا ہے کہ دونوں کی عمروں میں خاصا فرق ہونے کے باوجود ملکہ اور عبدل ایک دوسرے کے بے حد قریب آ گئے تھے۔

شوہر کے انتقال کے بعد ملکہ بالکل تنہا رہ گئی تھیں اور شاید اس تنہائی سے نجات پانے کے لیے وہ عبدل کے قریب آ گئیں۔ دونوں کی قربت اتنی بڑھ گئی کہ شاہی دربار میں عبدل کے خلاف خاصی بد ظنی پھیل گئی۔ ایک بار جب وکٹوریہ نے عبدل کی رفاقت میں شاہی محل سے کافی فاصلے پر واقع مرغ زاروں میں ایک دیہی کاٹج میں چھٹیاں گزارنے کا فیصلہ کیا تو شاہی اہل کاروں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگر وہ عبدل کے ساتھ چھٹیاں منانے گئیں تو وہ اجتماعی طور پر مستعفی ہو جائیں گے۔

تاہم ملکہ عبدل کی رفاقت میں وقت گزارنے کے لیے اس قدر بے قرار تھیں کہ انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی اور وہ اس پر فضا مقام کی جانب روانہ ہو گئیں جہاں دونوں نے ایک ساتھ کئی دن گزارے۔

عبدل سےملکہ نے اردو بھی سیکھی اور ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کی معلومات بھی حاصل کی۔ عبدل نے انہیں خالص ہندوستانی پکوانوں سے بھی روشناس کرایا۔ دونوں گھنٹوں گپ شپ کرتے۔ دونوں ایک دوسرے کو خط بھی لکھتے تھے۔ ملکہ اپنے خط کے آخر میں لکھتی تھیں ”تمہاری سب سے قریبی دوست” یا ”تمہاری حقیقی رفیق”۔ ملکہ وکٹوریہ نے عبدل کو برطانیہ میں کئی جاگیریں بھی عطا کی تھیں۔

تاہم 1901ء میں ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے کنگ ایڈورڈ نے، جو عبدل سے بے حد بیزار تھے، انھیں برطرف کر کے ہندوستان واپس بھیج دیا۔ 46 سال کی عمر میں آگرہ میں عبدل کا انتقال ہو گیا۔

XS
SM
MD
LG