رسائی کے لنکس

یہ گرفتاری توہین آمیز فلم پر نہیں بلکہ مشروط رہائی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے جرم میں عمل میں آئی ہے۔

امریکہ میں اسلام مخالف فلم کے پروڈیوسر کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

پچپن سالہ نکولا بیسلے نکولا کو لاس اینجلس میں حراست میں لینے کے بعد مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔

یہ گرفتاری توہین آمیز فلم پر نہیں بلکہ مشروط رہائی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے جرم میں عمل میں آئی ہے۔

بینک سے دھوکہ دہی کی سزا پوری کرنے کے بعد ایک سال قبل نکولا کو مشروط رہائی دی گئی تھی تاہم عدالت نے نکولا کو پابند کیا تھا کہ وہ اجازت کے بغیر انٹرنیٹ استعمال نہیں کریں گے اور نہ ہی پولیس کی اجازت کے بغیر انٹرنیٹ پر فرضی نام کا استعمال کریں گے۔

وکیل استغاثہ کے مطابق نکولا متعدد بار اس پابندی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے۔ جج نے ملزم کو یہ کہہ کر جیل بھیج دیا کہ اس پر اب اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

مصری نژاد امریکی شہری نکولا نے رواں ماہ اسلام مخالف فلم کے چند مناظر یوٹیوب پر نشر کیے تھے جس کے بعد دنیا بھر میں مسلمانوں کی طرف سے سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔

پاکستان سمیت بعض ملکوں میں پرتشدد مظاہرے بھی کیے گئے اور لیبیا میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے پر دھاوا بول کر امریکی سفیر سمیت چار سفارتی اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔
XS
SM
MD
LG