رسائی کے لنکس

ویتنام کی قومی اسمبلی نے ملک کی نئی کابینہ کی منظوری دے دی ہے جس کی اکثریت وزیرِاعظم نگوئن ٹان ڈنگ کے حامیوں پر مشتمل ہے۔

بدھ کو منظور کی گئی کابینہ میں 22 میں سے 15 وزارتوں میں نئے وزراء کا تقرر کیا گیا ہے۔ تاہم نئے نامزد ہونے والے وزراء میں سے کئی ماضی میں انہی وزارتوں میں نائب کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں جس کے باعث تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پالیسیوں میں کسی نمایاں تبدیلی کا امکان نہیں۔

اسمبلی نے بدھ کو چار نائب وزرائے اعظم کے ناموں کی بھی منظوری دی جن میں دو نئے چہرے بھی شامل ہیں۔ یہ تمام افراد بھی وزیرِاعظم ڈنگ کے حامی تصور کیے جاتے ہیں جو گزشتہ ہفتے پانچ سال کی مسلسل دوسری مدت کے لیے وزیرِاعظم منتخب ہوئے تھے۔

روس میں تربیت پانے والے سرکاری آڈیٹر وونگ ڈِن ہیو کو ملک کا نیا وزیرِخزانہ نامزد کیا گیا ہے جن کا سب سے بڑے چیلنج افراطِ زر کی شرح پر قابو پانا ہوگا جو دنیا کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔

ڈن ہیو کی تعیناتی اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت سرکاری کاروباری اداروں پر کڑی نظر رکھنا چاہتی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس بحری جہاز بنانے والی سرکاری کمپنی 'وینا شین' قرضوں کے بھاری بوجھ کے باعث دیوالیہ قرار پا گئی تھی۔

نئے وزراء کی تعیناتیوں سے ایک روز قبل ویتنام کی ایک عدالت نے ملکی حکومت کے ایک نمایاں مخالف کو ہوئی ہاوو کو سنائی گئی سات برس قید کی سزا کی توثیق کردی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو سامنے آنے والے اس فیصلہ پر تنقید کرتے ہوئے ویتنامی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ہاوو اور دیگر سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔

XS
SM
MD
LG