رسائی کے لنکس

ویتنام پر کرسمس کے دوران بمباری کو چالیس سال ہو گئے


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

1972ء کو امریکہ کے B-52 ہوائی جہاز ہنوئی اور شمال میں بندرگاہ والے شہر ہنوئی پانگ کی طرف روانہ ہوئے ۔

ویتنام کی جنگ کے دوران 1972ء کی کرسمس کی بمباری کو چالیس برس ہو چکے ہیں۔ ویتنام میں اس واقعے کی یاد منائی جا رہی ہے۔ جنگ کے زمانے کے ان پھٹے بموں اور بارودی سرنگوں سے آج بھی لوگ ہلاک و زخمی ہوتے رہتے ہیں۔

18 دسمبر، 1972ء کو امریکہ کے B-52 ہوائی جہاز ہنوئی اور شمال میں بندرگاہ والے شہر
ہنوئی پانگ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ ویتنام کی جنگ میں ہوائی جہازوں سے بمباری کی سب سے بڑی مہم کا آغاز تھا۔ یہ بمباری صدر نکسن کے زمانے میں اس وقت شروع ہوئی جب پیرس میں امن مذاکرات ناکام ہو گئے ۔ بمباری کی یہ مہم تقریباً دو ہفتے جاری رہی، اور اس کے نتیجے میں 1,600 ویتنامی سویلین ہلاک ہو گئے۔

26 دسمبر کو تقریباً رات دس بجے، ہنوئی کی قامتھین اسٹریٹ پر تقریباً 300 افراد ہلاک ہوئے ۔ بمباری کے وقت اکیاسی سالہ نگیوین ون کیو اپنے کام پر گئے ہوئے تھے ۔ وہ آدھی رات کو واپس لوٹے تو انھوں نے دیکھا کہ ان کا گھر تباہ ہو چکا ہے، اور ان کی بیوی اور ایک بیٹا ہلاک ہو چکا ہے۔

‘‘وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں اپنی بیوی کے جسم کا آدھا حصہ ملا۔ وہ سرخ سویٹر پہنے ہوئے تھیں۔ انہیں اپنے بیٹے کی صرف ایک ٹانگ ملی جسے انھوں نے اس لیے پہچان لیا کیوں کہ ایک سال پہلے ایک حادثے میں اس پر ابلتا ہوا پانی گرا تھا جس کا نشان موجود تھا۔’’

چالیس سال بعد، دارالحکومت میں رقاصوں اور موسیقاروں کے گروپ اس واقعے کی یاد منانے کے لیے ریہرسل کر رہے ہیں۔ ویتنام کی جنگ کے سابق فوجی چیک سیریسی کہتے ہیں کہ یہ برسی ویتنام کے نوجوانوں کے لیےاپنے والدین کی جرأت کو یاد کرنے کا اچھا موقع ہے ۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ زمین میں جو بم اور بارودی سرنگیں دفن ہیں، ان کے خطرات سے لوگوں کو محفوظ کرنے کے لیے ، زیادہ کام کرنا ضروری ہے ۔

سیرسی ایک تنظیم کے بانیوں میں سے ہیں جس کا نام ‘پراجیکٹ رینیو’ ہے۔ یہ تنظیم وسطی ویتنام میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں مقامی تنظیموں کی مدد کرتی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ وزارتِ دفاع نے اکثر یہ کہا ہے کہ ویتنام سے ہر بم اور بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں 100 برس لگیں گے اور اربوں ڈالر خرچ ہوں گے ۔

‘‘اس میں سو برس یا ہزار برس نہیں لگیں گے کیوں کہ یہ کام کبھی ختم نہیں ہوگا اور نہ اسے اس طرح کرنے کی ضرورت ہے ۔ جو چیزیں واقعی خطرناک ہیں ان کا انتظام کیا جا سکتا ہے، اور اس کے ساتھ ہی بچوں کو اور بڑوں کو یہ سکھایا جا سکتا ہے کہ خود کو کس طرح محفوظ رکھیں، اور اگر گولہ بارود کا پتہ چلے تو اس کی اطلاع کیسے دیں۔’’

پراجیکٹ رینیو کے مطابق، جنگ میں امریکہ نے ایک کروڑ پچاس لاکھ ٹن گولہ بارود استعمال کیا تھا ۔ اس کا دس فیصد حصہ زمین پر گرنے کے بعد پھٹا نہیں ۔ بعد کے عشروں میں، کلسٹر بموں کے گولہ بارود، بارودی سرنگوں، گرینیڈز، بموں اور جنگ کے زمانے کے دوسرے دھماکہ خیز مادوں سے لوگوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے ایک لاکھ سے زیادہ واقعات ہوئے ہیں ۔

حال ہی میں، جنوبی ویتنام کے وینح لانگ صوبے میں ، چار بچے اس وقت ہلاک ہو گئے جب جنگ کے زمانے کا توپ کا ایک گولہ ان کے گاؤں میں پھٹ گیا۔ دو اور بچے اور تین افراد زخمی ہو گئے ۔

پراجیکٹ رینیو جس صوبے میں کام کر رہا ہے۔ جنگ کے زمانے میں یہاں سب سے زیادہ بمباری ہوئی تھی ۔ سیرسی کہتے ہیں کہ اس صوبے کے 80 فیصد سے زیادہ حصے میں اب بھی ان پھٹا گولہ بارود موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں بقیہ ملک کا 20 فیصد حصہ بموں اور گولہ بارود سے آلودہ ہے ۔

‘‘ہم نے جب اپنا پراجیکٹ شروع کیا، اس وقت ایسا لگتا تھا کہ لوگوں نے یہ بات قبول کر لی ہے کہ لوگ بموں اور بارودی سرنگوں سے اسی طرح مرتے رہیں گے ۔ لوگوں نے اس بات کو زندگی کی تلخ حقیقت سمجھ کر قبول کر لیا تھا کہ وہ بد قسمتی سے ایسے علاقے میں رہ رہے ہیں جس پر جنگ کے زمانے میں سب سے زیادہ بمباری ہوئی تھی۔ لیکن پچھلے چند برسوں میں ہم نے عام لوگوں کو تعلیم دی ہے، بارودی سرنگوں سے واقفیت کے پروگرام شروع کیے ہیں، اور بچوں اور بالغوں کو یہ سکھایا ہے کہ وہ خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں اور حادثات، اور ہلاک و زخمی ہونے سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔’’

پراجیکٹ رینیو ایک عشرے قبل شروع کیا گیا تھا۔ اس عرصے میں سالانہ حادثات کی شرح 50 سے کم ہو کر 10رہ گئی ہے ۔

سیرسی کہتے ہیں کہ اس پراجیکٹ میں ویتنام کی موجودہ تنظیموں جیسے وویمن یونین، یوتھ یونین اور صحت کی سہولتوں سے استفادہ کیا جاتا ہے ۔ اس پروگرام میں فوج سے بھی تعاون کیا جاتا ہے تا کہ اسے آسانی سے دوسرے صوبوں میں پیرا شوٹ سے اتارا جا سکے ۔ فی الحال صرف چند ہی صوبوںمیں ان پھٹے گولہ بارود سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے ۔
سیرسی کہتے ہیں کہ اب جب کہ ویتنام تاریخ کی بد ترین بمباری کی برسی منا رہا ہے، لوگوں میں ان پھٹے گولہ بارود کے جان لیوا خطرات کے متعلق آگہی پیدا کرنے کا یہ بڑا اچھا موقع ہے ۔
XS
SM
MD
LG