رسائی کے لنکس

چین پر ویتنامی جہازوں پہ حملے کا الزام


چینی آئل رِگ کی متنازع بحری حدود میں آمد کے بعد سے ویتنامی اور چینی کشتیوں کے درمیان تصادم اور محاذ آرائی کے اب تک درجنوں واقعات پیش آچکے ہیں۔

ویتنام کی حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ چینی بحریہ نے بحیرۂ جنوبی چین کی متنازع حدود میں چار ویتنامی جہازوں پر حملہ کیا ہے۔

ویتنام میں ماہی گیری سے متعلق محکمے کے سربراہ گوئن گوک اوئی نے 'وائس آف امریکہ – ویتنامی سروس' کو بتایاہے کہ آٹھ سے 10 چینی کشتیوں نے بدھ کو ان کے محکمے کے ایک جہاز اور ویتنامی ماہی گیروں کی تین کشتیوں کا گھیر اؤ کیا اور ٹکریں ماریں۔

گوک اوئی کے مطابق واقعہ بحیرۂ جنوبی چین میں نصب کیے جانے والے اس متنازع آئل رِگ کے نزدیک پیش آیا جو ویتنام اور چین کے درمیان وجۂ نزاع بنا ہوا ہے۔

ویتنامی عہدیدار کے مطابق چینی کشتیوں نے ان کے محکمے کے جہاز پر پانی کی بوچھاڑ سے حملہ بھی کیا جس سے جہاز پر تعینات عملے کے تین اہلکار زخمی ہوگئے۔

گوک اوئی نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور کشتیاں ماہی گیروں کے زیرِاستعمال کشتیوں جیسی نہیں تھیں بلکہ انہیں "خاص مقاصد" کو پیش نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ چینی حکام متنازع سمندری حدود میں ویتنامی ملاحوں کو خوف زدہ کرنے اور ان پر حملہ کرنے کے لیے اس طرح کی کشتیاں کثرت سے استعمال کر رہے ہیں جیسی بدھ کے حملے میں استعمال کی گئیں۔

چین کی حکومت نے تاحال ویتنام کے اس تازہ الزام کا جواب نہیں دیا ہے۔

منگل کو بھی علاقے میں ویتنام کی ایک کشتی ڈوبنے کا واقعہ پیش آیا تھا جس پر دونوں حکومتوں نے ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار ٹہرایا تھا۔

ویتنام نے دعویٰ کیا تھا کہ کشتی چینی ماہی گیروں کے ایک جہاز کی ٹکر کے بعد غرقاب ہوئی۔ اس کے برعکس چین کے حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ ویتنامی کشتی کو جب حادثہ پیش آیا تو اس پر سوار افراد چینی ملاحوں کو ہراساں کررہے تھے۔

دونوں ملکوں کے درمیان بحری حدود پر جاری تنازع کا آغاز یکم مئی کو اس وقت ہوا تھا جب چین نے اپنا ایک آئل رِگ بحیرۂ جنوبی چین کے اس علاقے میں منتقل کردیا تھا جسے ویتنام اپنی سمندری حدود کے اندر قرار دیتا ہے۔

چین کے اس اقدام کے بعد ویتنام میں چین مخالف فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں چین کے دعوے کے مطابق اس کے چار شہری مارے گئے تھے۔

فسادات کے دوران مشتعل افراد نے ویتنام کے مخصوص صنعتی علاقوں میں قائم کئی غیر ملکی کارخانوں کو نذرِ آتش کردیا تھا جس کے بعد چین نے ویتنام میں کام کرنے والے اپنے ہزاروں شہریوں کو وطن واپس بلالیا تھا۔

چینی آئل رِگ کی متنازع بحری حدود میں آمد کے بعد سے ویتنامی اور چینی کشتیوں کے درمیان تصادم اور محاذ آرائی کے اب تک درجنوں واقعات پیش آچکے ہیں۔

چین کی اس مبینہ مداخلت کے خلاف ویتنام کے وزیرِاعظم عالمی عدالت سے رجوع کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔

خیال رہے کہ چین معدنی وسائل سے مالامال بحیرۂ جنوبی چین کی کلی ملکیت کا دعویدار ہے جسے خطے کے دیگر ممالک – بشمول ویتنام، فلپائن، تائیوان، ملائیشیا اور برونائی – مسترد کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG