رسائی کے لنکس

ایشیائی کھیل: ویتنام کی میزبانی سے معذرت


ہنوئی

ہنوئی

ویتنام کی معیشت کو مشکلات لاحق ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ملک کا بجٹ محدود ہے، اور دستیاب رقوم کو دیگر فوری نوعیت کے کاموں پر خرچ کرنا ضروری ہوگا

ویتنام نے کہا ہے کہ مالی مشکلات کے باعث، اُس کی طرف سے’2019ء کے ایشیائی کھیلوں‘ کی میزبانی ممکن نہیں ہوگی۔

اِس بات کا اعلان وزیر اعظم، نگوین تان ڈُنگ نے جمعرات کے روز ایک سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کیا۔

ویتنام کی معیشت کو مشکلات لاحق ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک کا بجٹ محدود ہے اور دستیاب رقوم کو دیگر فوری نوعیت کے کاموں پر خرچ کرنا ضروری ہوگا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اِن کھیلوں پر اٹھنے والی لاگت بہت زیادہ ہے، اور ویتنام کے لیے میزبانی کے فرائض مہنگے پڑیں گے۔

گذشتہ ماہ، حکومت نے کہا تھا کہ کھیل منعقد کرانے کے لیے تقریباً 15 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے۔ تاہم، دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ اخراجات اِس سے بھی کہیں زیادہ ہوں گے۔

سنہ 2012ء میں ایشیائی کھیلوں کے انعقاد کے لیے ویتنام کو منتخب کیا گیا تھا، جب کہ انڈونیشیا کے سُرابایا شہر کے چناؤ کی پیش کش کو مسترد کیا گیا تھا۔ ابھی یہ واضح نہیں، آیا 2019ء کے کھیل اب کونسا ملک منعقد کرائے گا۔
XS
SM
MD
LG