رسائی کے لنکس

معروف بھارتی اداکار ونود کھنہ انتقال کر گئے


ونود کھنہ (فائل فوٹو)

ونود کھنہ کی عمر 70 سال تھی، وہ ایلائنس اسپتال میں جسم میں پانی کی شدید کمی کی باعث زیر علاج تھے، جب کہ کچھ ہی ماہ پہلے کینسر کے مرض کی تشخص ہوئی تھی۔

فلم، مذہب اور سیاست تین شعبوں میں بھرپور زندگی بسر کرنے والے بھارت کے سینئر اداکار ونود کھنہ جمعرات کی صبح ممبئی میں انتقال کر گئے۔

ونود کھنہ کی عمر 70 سال تھی، وہ ایلائنس اسپتال میں جسم میں پانی کی شدید کمی کی باعث زیر علاج تھے، جب کہ کچھ ہی ماہ پہلے کینسر کے مرض کی تشخص ہوئی تھی۔

وہ 6 اکتوبر 1946 کو ضلع گرداس پور پنجاب میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے 1968 سے 2013 تک تقریباً ڈیڑھ سو فلموں میں کام کیا، چار دہائیوں تک فلمی پردے پر انہوں نے اپنے دور کے ہر بڑے اور چھوٹے فنکار کے ساتھ کام کیا۔ ان میں امیتابھ بچن، رشی کپور اور دھر میندر سے لیکر سلمان خان تک تمام بڑے نام شامل ہیں۔

فلم من کا میت ان کی پہلی فلم تھی جب کہ ’’میراگاؤں میرا دیش‘، ’غدار‘،’ جیل یاترا‘، ’امتحان‘، ’انکار‘، ’کچے دھاگے‘، ’امر اکبر انتھونی‘، ’راجپوت‘، ’قربانی‘،’ قدرت‘،’ دیاوان‘،ان کی کامیاب ترین فلموں میں شامل ہیں۔

انہیں ابتدا میں نیگیٹور رولز ’منفی کردار‘ ادا کرنے کے طور پر پسند کیا گیا لیکن اچھی شکل صورت اور اداکاری کے بے شمار جوہر ہونے کے سبب بعد میں انہیں ہیرو کے طور پر فلموں میں کاسٹ کیا جانے لگا اور دیکھتے دیکھتے وہ سپر اسٹار بن گئے۔

جس دور میں انہوں نے عروج حاصل کرنا شروع کیا، امیتابھ کی فلم انڈسٹری پر طوطی بولا کرتی تھی لیکن ونود کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے انہیں امیتابھ کا سب سے بڑا حریف سمجھا جانے لگا۔

ایک وقت میں یہ بھی لگا کہ شاید امیتابھ کا اسٹار ڈم اب ختم ہو جائے گا لیکن 1982 میں اچانک ونود کھنہ نے روحانی پیشوا رجنیش کی مذہبی تنظیم جوائن کرلی اور فلموں سے کنارہ کش ہو گئے ۔

اس دوران وہ پانچ سال تک فلمی پردے سے دور رہے لیکن خبروں کی شہ سرخیوں اور پریس نے انہیں کبھی تنہا نہیں کیا اور کسی نہ کسی حوالے سے وہ خبروں میں ان ہی رہے یہاں تک کہ انہیں ایک بار پھر فلمی پردے پر لوٹنا پڑا۔

اس دور کی بھارتی سیاست میں مذہبی رنگ آہستہ آہستہ زور پکڑنے لگا تو بی جے پی کا پلہ بھاری ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ونود کھنہ کو بھی بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنا پڑی ۔

انہوں نے 1997 میں بی جے پی کے ٹکٹ پر بھارتی پنجاب اور اپنے آبائی ضلع گرداس پور سے انتخابات میں حصہ لیا اور رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ۔

سن 2002میں وہ سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے اتنے قریب ہوئے کہ واجپائی نے انہیں ثقافت کا یونین منسٹر بنا دیا۔

بعد ازاں وہ امور خارجہ کی وزارت میں وزیر مملکت منتخب کر لیے گئے ۔

سن 2009 کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی لیکن 2014 میں ایک مرتبہ پھر وہ سیاست کے ایوانوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔

اس دوران وہ گاہے بگائے فلموں سے بھی جڑے رہے۔ سن 2013 میں انہوں نے سلمان خان کی فلم ’دبنگ ‘ کی جو ان کی آخری فلموں میں سے ایک تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG