رسائی کے لنکس

گولڈن کلر کی ٹوپولینو 1960ء میں میری بہن نے فیورلیوبا کمپنی سے دوہزار نو سو روپے میں خریدی تھی۔۔۔ ایک بار 1969ء میں جب اس کی مرمت پر 300 روپے خرچ ہوئے تو میں نے ایک مکینک کے اس مشورے پرکہ مرمت پر ’اتنی بڑی رقم‘ خرچ ہوگئی، آگے مزید خرچا ہوگا اسے مکینک کے ہاتھوں ہی 600 روپے میں بیچ دیا

کراچی میں ویک اینڈ پر موسم سرما کی روح افزا بارش اور گھنے بادلوں کی کوکھ سے پرورش پاتے تیز ہوا کے گلابی جھونکوں کے بعد۔۔اتوار کا سورج اپنے ہمراہ سنہری دھوپ لے کر طلوع ہوا۔ چھٹی کی ایسی سہانی صبح اب کراچی والوں کو کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے، اس لئے بیشتر لوگوں نے صبح سویرے ہی کہیں نہ کہیں جاکر یہ دن گزارنے کا معمول ترتیب دے دیا۔

کراچی کے تاریخی فرئیرہال کا لمبا چوڑا سبزہ زار ہو اور وہاں ’ونٹیج اینڈ کلاسک کار شو‘ ہو تو بھلا لوگ اس طرف کا رخ کیوں نہ کرتے۔یہ اب تک ہونے والے کارشوز سے قدرے مختلف تھا کہ اس میں پہلی بار 100سے زائد تاریخی کاروں میں چند ایسی بھی تھیں جن کے بارے میں لوگوں نے سنا تو بہت تھا۔ لیکن، شاید کبھی دیکھا نہیں تھا۔ یہ کاریں پہلی مرتبہ نمائش کے لئے پیش کی گئی تھیں۔

شاید یہی وجہ تھی کہ سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن بھی اس نمائش کو دیکھنے کے شوق میں فرئیر ہال پہنچے۔ ان کی دلچسپی کا مرکز نواب بہاولپور کی وکٹوریہ طرز کی لمبی سی جیپ تھی جو قدیم ہونے کے باوجود ایسی لگ رہی تھی گویا ابھی ابھی فیکٹری سے نکلی ہو۔ نمائش کے منتظمین نے اس گاڑی کے بارے میں وزیراطلاعات کو تفصیل سے بریف کیا۔

نواب بہاولپور کی وکٹوریہ طرز کی جیپ

نواب بہاولپور کی وکٹوریہ طرز کی جیپ

’ونٹیج اینڈ کلاسک کار کلب آف پاکستان‘ کے زیر اہتمام ہونے والا یہ 12 واں سالانہ شو تھا اور شو میں ’لنکن، ریلے، شیورلیٹ، فئیٹ، کیڈیلیک، فورڈ، جیگور، رولس رائس، ایم جی، روڈیسٹر، رینالٹ، بیسر، ٹرائی امپس، روور، تھنڈر برڈ، مے فیئر، فراری، مرسیڈیز بینز‘ اور بی ایم ڈبلیوجیسی حسین اور دلکش کاریں موجود تھیں۔

سکندر علی خان اپنی پسندیدہ کار ’فیٹ ۔۔ٹوپولینو ’ کے ساتھ

سکندر علی خان اپنی پسندیدہ کار ’فیٹ ۔۔ٹوپولینو ’ کے ساتھ

چھیاسٹھ سالہ پرانی کار۔۔اولاد کی طرح عزیز
نمائش میں کاروں کے مالکان نے بھی خوشی خوشی لوگوں سے معلومات شیئر کیں۔ انہی مالکان میں کراچی سے تعلق رکھنے والے سکندر علی خان اور ان کے بیٹے منصور علی خان بھی شامل تھے، جن کے پاس 10 تاریخی کاریں ہیں اور ان میں سے بیشتر کاروں اس نمائش میں موجود تھیں۔

سکندر علی خان اپنی عمر کی 85 بہاریں دیکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ریٹائر ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت اہل خانہ کے بعد اپنی کاروں کے ساتھ گزرتے ہیں۔ یہ کاریں انہیں اولاد کی طرح ہی عزیز ہیں۔ ان میں سے ایک کار ’فئیٹ ۔۔ٹوپولینو‘ ہے۔ یہ 1949ء کا ماڈل ہے اور 1960ء سے ان کے زیر استعمال ہے۔

کچھ دلچسپ باتیں، کچھ یادیں
سکندر علی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس کار سے جڑی اپنی پرانی یادوں کو تفصیل سے شیئر کیا۔ انہیں قارئین کی دلچسپی کی غرض سے ذیل میں شائع کیا جا رہا ہے:

گولڈن کلر کی ٹوپولینو 1960ء میں میری بہن نے فیورلیوبا کمپنی سے دوہزار نو سو روپے میں خریدی تھی۔ اسی کار پر بہن اور بہنوئی نے ڈرائیونگ سیکھی اور 1967ء تک یہ انہی کے استعمال میں رہی۔

سکندر علی خان اور ان کے بیٹے منصور علی خان

سکندر علی خان اور ان کے بیٹے منصور علی خان

پھر انہوں نے یہ گاڑی میرے بیٹے منصور کو تحفے میں دے دی۔ اس وقت منصور صرف 4سال کا تھا۔ وہ جب بھی اس گاڑی میں بیٹھتا تو اترنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ یوں بہن نے یہ کار منصور کو تحفے میں ہی دے دی۔ آج منصور خود بڑی عمر میں ہے۔ گویا اس کا بچن اور میری جوانی اسی گاڑی میں سفر کرتے گزری۔

ان یادوں کے سبب ہی میں نے اسے بیچنا مناسب نہیں سمجھا۔ ہاں ایک بار 1969ء میں جب اس کی مرمت پر 300 روپے خرچ ہوئے تو میں نے ایک مکینک کے اس مشورے پر کہ مرمت پر ’اتنی بڑی رقم‘ خرچ ہوگئی، آگے مزید خرچا ہوگا اسے مکینک کے ہاتھوں ہی 600 روپے میں بیچ دیا۔ اس دور میں یہ رقمیں بہت بڑی شمار ہوتی تھیں۔

پھر ایک روز میں نے اس گاڑی کو کلفٹن میں دوڑتے دیکھا تو مکینک کی منت سماجت کر کے اور 50روپے اوپر دے کر گاڑی دوبارہ خرید لی۔ایک اور مکینک سے اس کی مزید مرمت کرائی اور آپ یقین کریں تب سے اب تک یہ گاڑی بہترین انداز میں چل رہی ہے۔ اب میں اسے برائے نام ہی سڑک پر نکالتا ہوں۔ لیکن اس کی دیکھ بھال اسی چاوٴ سے کرتا ہوں جیسے کوئی زیرو میٹر کار کی کرتا ہے۔

ابتدا میں اس کا رنگ کالا تھا۔ لیکن 1971ء میں میں نے رنگ کالے سے لال کرا دیا لیکن لال رنگ آنکھوں میں چبھتا تھا اس لئے کچھ سال بعد ہی اسے سنہری رنگ میں رنگوا دیا۔ بس تب سے اب تک یہ اسی رنگ میں موجود ہے۔

کار کی دیکھ بھال کے لئے ملازمین کو ذمے دار نہیں ٹھہرایا خود ہی اس کی ’چمپی‘ کرتا ہوں۔ اس کا انجن پانچ سو ستر سی سی ہے۔ رفتار 55 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ ٹو سیٹر ہے۔ رئیڈیل ٹائر تبدیل ہیں، ایلوئے رم لگے ہیں۔ انڈیکٹر، ٹی وی اسٹریو، نائٹ رائیڈر، سگنل اور دوسری بہت سی جدید سہولتیں موجود ہیں۔ ڈیش بورڈ آج تک نہیں بدلا، اسپیڈ اورفیول گیج آج تک چالو حالت میں ہے۔

یہ اب تک 7 ریلیو ں میں شرکت کرکے پانچ مرتبہ انعام حاصل کرچکی ہے۔ ایک ریلی میں اسے ’اولڈیسٹ کار‘ ہونے کا بھی اعزار مل چکا ہے۔ 1989ء کے فیسٹیول میں نمائش کے موقع پر ایک امریکی شہری نے دس ہزار ڈالر میں اسے خریدنا چاہا تھا جبکہ ایک پاکستانی تاجر نے پانچ لاکھ کی آفر کی تھی۔ لیکن، اس سے جڑی یادوں کے سبب کبھی لالچ میں نہیں آیا۔ میں آج بھی یہی سمجھتا ہوں کہ یہ منصور کیلئے آئی تھی اوراب بھی یہ منصور ہی کی ملکیت ہے۔ پرانی کاریں رکھنے کے شوق کو اب تک جواں رکھنے کا سہرا منصور کے ہی سر ہے۔

XS
SM
MD
LG