رسائی کے لنکس

30 سالہ فرید گل کے خاندان کو چند مصائب کی وجہ سے فاٹا میں اپنا گھر بار چھوڑ کر پشاور آنا پڑا تھا۔ فرید گل کا کہنا ہے کہ ان کے اردگرد اور معاشرے میں ہونے والے تشدّد نے بچپن سے ہی ان کے ذہن و دل کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا۔

پاکستان گذشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ دہشت گردی نے جہاں ملک کی معیشت، معاشرت اور انتظامی ڈھانچے کو درہم برہم کیا ہے وہیں یہ دہشت گردی پاکستانیوں کے ذہن و دل پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔

پاکستان کے سرحدی علاقوں میں پہاڑوں کے دامن میں جوان ہونے والے فرید گل کا شمار بھی انہی لوگوں میں کیا جاتا ہے جو پاکستان کے حوالے سے فکر مند ہیں۔

فرید ایک شاعر ہیں اور شاعری کے ذریعے اپنے وطن پر دہشت گردی کے منڈلاتے سایوں کو موضوع ِ سخن بناتے ہیں۔

حال ہی میں وائس آف امریکہ کے ڈیوہ ریڈیو کو اپنے ایک انٹرویو میں فرید کا کہنا تھا کہ، ’ہر لکھاری اور شاعر کی طرح میری نظموں اور میری شاعری میں بھی میرے ارد گرد کا ماحول حاوی دکھائی دیتا ہے‘۔

30 سالہ فرید گل کے خاندان کو چند مصائب کی وجہ سے فاٹا میں اپنا گھر بار چھوڑ کر پشاور آنا پڑا تھا۔ فرید گل کا کہنا ہے کہ ان کے اردگرد اور معاشرے میں ہونے والے تشدّد نے بچپن سے ہی ان کے ذہن و دل کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا۔

فرید کہتے ہیں کہ، ’مجھے بچپن سے ہی اپنے والد کے ذریعہ ِ آمدنی اور ان کی حفاظت کا رہا ہے۔ جب بھی وہ گھر سے باہر جاتے تھے میں یہ ضرور دیکھتا تھا کہ انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے اپنا پستول رکھا ہے یا نہیں؟‘

فرید کے خاندان کو ان کے گاؤں سے جائیداد پر خاندانی دشمنی کی وجہ سے نکلنا پڑا۔ فرید کے مطابق جائیداد کے اسی جھگڑے پر اس کے چچا کو قتل کر دیا تھا۔ فرید کے مطابق، ’مجھے ابھی بھی اپنے والد اور اپنے خاندان کی حفاظت کی پریشانی لاحق ہے‘۔

ایک مقامی میگزین ’سحر‘ کی ایڈیٹر عذرا نفیس یوسفزئی کہتی ہیں کہ فرید جدید لہجے کا ایک شاعر ہے جو پشتونوں کے مصائب کو اپنی شاعری کا موضوع بناتا ہے۔

فرید گل کا ایک شعری مجمودہ بھی مارکیٹ میں آچکا ہے۔ فرید کہتے ہیں کہ وہ اپنے خیالات و احساسات کو اپنی شاعری کے ذریعہ دنیا کے سامنے لاتے رہیں گے۔
XS
SM
MD
LG