رسائی کے لنکس

فراق گورکھپوری کے نواسے بھی شاعری کرتے ہیں


فراق گورکھپوری کے نواسے بھی شاعری کرتے ہیں

فراق گورکھپوری کے نواسے بھی شاعری کرتے ہیں

وشو رنجن ایک اعلیٰ پولس افسر ہیں۔ وہ ریاست چھتیس گڑھ کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیمیں برابر احتجاج کرتی رہتی ہیں کہ انہوں نے وہاں ماؤ نوازوں کے نام پر لوگوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وشو رنجن ہندی کے شاعر بھی ہیں اور ان کی شاعری پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ ان کے سینے میں شاعر کا دل بھی ہے جو انسانوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ابھی ان کی نئی کتاب ’ایک نئی پوری صبح‘ کے عنوان سے آئی ہے۔اس میں ان کی 48 نظمیں تو ہیں ہی کچھ مضامین اور تبصرے بھی ہیں۔

وشو رنجن اردو کے عظیم المرتبت شاعر فراق گورکھپوری کے نواسے ہیں۔ ان کی پیدائش پٹنہ میں ہوئی تھی اور انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ہی تاریخ میں ایم اے کیا تھا۔ اس کے بعد وہ مقابلہ جاتی امتحان کے ذریعہ پولس سروس کے لیے منتخب ہو گئے اور ابھی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔ اس سے قبل کچھ عرصہ انہوں نے غیر ملکوں میں بھی گزارا ہے۔

ہندی کے معروف ناقد جئے پرکاش مانس لکھتے ہیں کہ ”وشو رنجن کی نظمیں نئے وقت اور نئے تناظر کی نظمیں ہیں، انہیں محض اس لیے نیا نہیں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے نئی زمینوں کی تلاش کی ہے بلکہ اس لیے بھی کہ باسی چیزیں بھی انسان کو نیا ذائقہ دے سکتی ہیں۔ الفاظ کی خاموش جادو گری انسانی ذہن کو متاثر کرتی ہے۔ نئی دنیا کا خاکہ تلاش کرتی ہے، عام آدمی کو وقت، سماج اور مسائل کی پہچان کراتی ہے۔ ان کی نظمیں خوف ناک صورت حال کے درمیان دانستہ طور پر اوڑھی ہوئی خاموشی کو چیرتے ہوئے انسان کو مسائل سے واقف کراتی ہیں۔ اس انسانی رویے میں شاعر کا ذہن پاس پڑوس میں پھیلے ہوئے الفاظ کو نئے سرے سے تلاش کرتا ہے انہیں جھاڑتا، پونچھتا ہے اور نئے حالات میں جذب کروا دیتا ہے۔ یہی بات شعروں میں نئی چمک پیدا کرتی ہے۔ “

وشو رنجن کا ذہن آج کے بازاری رویے سے بہت اکتایا ہوا ہے۔ اسی لیے وہ بازار کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں، حالانکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بازار کے خلاف لڑنا ایک حماقت ہے۔ کیونکہ انسان اب بازار میں ہی رچ بس گیا ہے۔ وہ بازار سے نکلنے کا راستہ تو تلاش کر رہا ہے لیکن یہ راستہ ایک بھول بھلیاں ہیں جس میں وہ الجھ کر رہ جاتا ہے۔ اپنی ایک نظم میں کہتے ہیں:

بازاری خوف اور آتنک کے کہرے سے
لپٹے رہنے کے باوجود
سورج سے دوستی کرنے کی
کر رہے ہیں بدستور کوشش
اور اسی کوشش میں شاید چھپا ہو
باہر نکل آنے کا کوئی راستا

وشو رنجن کے اس مجموعے میں انتظامیہ پر بھی گہرا طنز کیا گیا ہے، حالانکہ وہ خود اس انتظامیہ کا ایک پرزہ ہیں۔

فراق گورکھ پوری کی وجہِ شہرت غزل ہے، لیکن ان کے نواسے نے اپنا ذریعہٴ اظہار ہندی نظم کو بنایا ہے، اور نظم بھی نثری نظم، یعنی وزن کی قید سے آزاد۔

وشو رنجن کبیر کو پہلا انقلابی شاعر مانتے ہیں اور انہیں فراق کی شاعری میں صدیوں کی آواز سنائی دیتی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ”میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ میں اپنے مینرزم (mannerism)میں قید ہو کر نہ رہ جاؤں, میں ہمیشہ پاتا ہوں جب ایک خاص مینرزم ریٹرک (rhetoric) یا فارم مجھے باندھنے لگتے ہیں میرے اندر کویتا خاموش ہونے لگتی ہے کیونکہ میں پینٹنگ بھی کرتا ہوں میں پینٹنگ کی جانب بڑھ جاتا ہوں یا پھر سے کویتا میں لوٹتا ہوں، چاہتا ہوں کہ انداز بیاں بدلا ہوا ہو اور کوشش کرتا ہوں۔


XS
SM
MD
LG