رسائی کے لنکس

ایک بیان میں ڈیوڈ اینسور نے کہا ہے کہ اطلاعات کی آزادانہ ترسیل ایک آفاقی حق ہے اور ا ُن علاقوں میں جہاں کے سامعین کو سینسر شپ کا سامنا ہے، ’وی او اے‘ کی یہ کوشش رہے گی کہ وہ ہر دستیاب پلیٹ فارم کےذریعےبے لاگ اورمتوازن اطلاعات فراہم کرتا رہے

’وائس آف امریکہ‘ نے اِس بات پر احتجاج کیا ہے کہ چین کے لیےنشر کی جانے والی اُس کی انگریزی براڈکاسٹس کو پھر سے ’جام‘ کیا جارہا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ کے ڈائریکٹر ڈیوڈ اینسور نے اس نئی مداخلت کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومتی براڈکاسٹر ماہرین کی مدد سے اِس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہا ہے آیا نشریات کو فی الواقع کس مقام پر جام کیا جارہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اطلاعات کی آزادانہ ترسیل ایک آفاقی حق ہے اور ا ُن علاقوں میں جہاں کے سامعین کو سینسرشپ درپیش ہے، ’وی او اے‘ کی یہ کوشش رہے گی کہ وہ ہر دستیاب پلیٹ فارم کے ذریعےبے لاگ اور متوازن اطلاعات فراہم کرتا رہے۔

واضح رہے کہ صرف امریکی فنڈز سے چلنے والے ’وائس آف امریکہ‘ کو ہی نشریات کے جام کیے جانے کی صورت حال کا سامنا نہیں ہے، بلکہ اِسی ہفتے برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے بتایا تھا کہ اُس کی شارٹ ویو پر پیش کی جانے والی انگریزی ریڈیو کی نشریات کو بھی چین میں ہی جام کیا جارہا ہے۔

’ بی بی سی‘ کا کہنا ہے کہ جب کہ یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ نشریات کو کون جام کر رہا ہے، لیکن ’وسیع اور مربوط‘ کوششیں ظاہر کرتی ہیں کہ بے تحاشا وسائل رکھنے والا کوئی ملک، مثلاً چین، اِس کارروائی میں ملوث لگتا ہے۔

وی او اے براڈکاسٹ انجنیئرز کا کہنا ہے کہ ریڈیو آسٹریلیا کوبھی اِسی طرح جام کیے جانے کی شکایت لاحق ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG