رسائی کے لنکس

وائس آف امریکہ کی ڈائریکٹر، اماندا بینیٹ نے کہا ہے کہ طالبان کے عروج اور موجودہ دور میں درپیش کشیدگی کے چیلنجوں کے مرحلے پر، یہ سروس آزادی اور جمہوریت کے میدان میں خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے صوبوں کے عوام کے ساتھ رابطے کا ایک اہم ذریعہ بنی ہوئی ہے

’وائس آف امریکہ‘ کی ’ڈیوا‘ سروس نے، جو افغانستان و پاکستان کے سرحدی علاقے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جمعرات کے روز اپنی دسویں سالگرہ منائی۔ یہ تقریب وائس آف امریکہ کے صدر دفتر، واشنگٹن میں منعقد ہوئی۔

’ڈیوا‘ نے 25 اگست 2006ء کو پشتو میں محض پانچ منٹ کے یومیہ دورانیہ کی نشریات شروع کی تھیں۔

ڈیوا سروس کے سربراہ، نفیس ٹکر کے مطابق، ’’آج یہ سروس یومیہ نو گھنٹے کی ریڈیو نشریات فراہم کرتی ہے، جس میں سے تین گھنٹے ’ریڈیو آن ٹی وی‘ پروگرام ہوتا ہے، جس میں خواتین کا معروف ’کال اِن‘ شو ’ایڈوریبل ومین‘ شامل ہے، جس نے خطے کی نصف آبادی کو گویائی کی طاقت عطا کی ہے‘‘۔

وائس آف امریکہ کی سربراہ، اماندا بینیٹ نے کہا کہ طالبان کے عروج اور اِس دور میں درپیش کشیدگی کے چیلنجوں کے مرحلے پر، یہ سروس آزادی اور جمہوریت کے میدان میں خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے صوبوں کے عوام کے ساتھ رابطے کا ایک اہم ذریعہ بنی ہوئی ہے۔

بینیٹ کے بقول، ’’یہ ایک نسبتاً چھوٹی لیکن طاقتور سروس ہے۔ یہ اس کی تخلیقی صلاحیت اور بہادری کی غماز ہے، خاص طور پر وہ کام جو خواتین کو سائے سے نکال پر میدانِ عمل میں لاتا ہو‘‘۔

وائس آف امریکہ کی جنوب اور وسط ایشیائی ڈویژن کے سربراہ، اکبر ایازی کے الفاظ میں ’’وہ مشکل ترین علاقوں، اور دنیا کے سنگلاخ ترین علاقے میں خدمات بجا لا رہے ہیں، جہاں شدت پسندی اور انتہاپسندی روز کا معمول بنی ہوئی ہے‘‘۔

وائس آف امریکہ ڈیوا ریڈیو اور ٹیلی ویژن پانچ کروڑ سے زائد پشتون آبادی کو خبریں اور اطلاعات فراہم کرنے کا ذریعہ ہے۔

خطے میں علاقائی، بین الاقوامی اور امریکی خبروں کے بے لاگ مقامی ذرائع موجود نہیں۔ ایسے میں جب فوجی بیانیہ، جہادی ایجنڈا اور شدت پسند گروپوں کا علاقے کی ریاست اور نجی ابلاغ کے مارکیٹ پر غلبہ ہے، ڈجیٹل پلیٹ فارمس، گھروں تک رسائی رکھنے والے سیٹلائٹ، ریڈیو اور انٹرنیٹ کے رابطے کے ذریعے، وائس آف امریکہ کی ڈیوا سروس بغیر لگی لپٹی کے اور حقیقی خبروں اور اطلاعات کا ایک با اعتبار ذریعہ ہے۔

XS
SM
MD
LG