رسائی کے لنکس

وائس آف امریکہ کا مکرم خان عاطف کو خراج عقیدت


مکرم خان عاطف کی یاد میں منعقدہ تقریب، جس میں وی او اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ اینسرکے علاوہ مرحوم کے دوست اورساتھی شریک ہوئے

مکرم خان عاطف کی یاد میں منعقدہ تقریب، جس میں وی او اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ اینسرکے علاوہ مرحوم کے دوست اورساتھی شریک ہوئے

’مسٹر عاطف کو کئی بار دھمکیاں مل چکی تھیں، لیکن اُنھوں نے حق بات کا ساتھ چھوڑنے سے یکسر انکار کیا‘

جمعے کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب میں طالبان عسکریت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے ادارے کےایک معروف صحافی مکرم خان عاطف کو مرحوم کے دوستوں اور ساتھیوں نے ’ایک باہمت انسان‘ قرار دیتے ہوئےخراج عقیدت پیش کیا، جِن کے قتل کی ذمہ داری پاکستانی شدت پسندوں نےقبول کی ہے۔

اِس موقعے پر اپنے کلمات میں ’وائس آف امریکہ‘ کے ڈائریکٹر، ڈیوڈ اینسر نے اِس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ’مسٹر عاطف کو کئی بار دھمکیاں مل چکی تھیں، لیکن وہ حق بات کا ساتھ چھوڑنے سے یکسر انکار کرتے رہے‘۔

عاطف کو، جو کہ ایک نجی پاکستانی ٹیلی ویژن چینل کے لیے بھی خدمات انجام دیتےتھے، بدھ کے روز شبقدر کے ایک قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ اُن کی نمازِ جنازہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اُن کی ہلاکت پر پاکستان کی صحافتی برادری نےمایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سخت مذمت کی اور حکومت سے قتل کے واقع کی تحقیتات کا مطالبہ کیا ہے۔

’ڈیوا‘ ریڈیو سروس کے سربراہ، نفیس ٹکر نے اِس قتل کو ڈیوا سروس کے لیے ’ایک عظیم نقصان‘ اور مرحوم کےپسماندگان اورحلقہٴ احباب کے لیےایک ناقابل تلافی ’سانحہ‘ قرار دیا۔

اس موقعے پر مرحوم کی یاد میں چند لمحوں کی خاموشی اختیار کی گئی، جس میں یو ایس انٹرنیشنل براڈکاسٹنگ بیورو کے ڈائریکٹر، رچرڈ ایم لوبو نے بھی وی او اے کے دیگر ڈائریکٹرز کےہمراہ شرکت کی۔

اینسر نے کہا کہ ڈیوا سروس پاکستان کے قبائلی علاقوں کے سامعین تک درست اور بے لاگ خبریں پہنچانے کے عزم پر قائم ہے۔

مکرم خان عاطف وائس آف امریکہ کے وہ تیسرے صحافی ہیں جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے۔ وہ اِس سال پاکستان میں قتل ہونے والے پہلے صحافی ہیں، جسے صحافیوٕں کے لیے دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا جا تا ہے۔

طالبان کے ایک ترجمان نے عاطف کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے، جنھیں صوبائی دارالحکومت پشاور سے 35کلومیٹر دور شب قدر کے علاقے میں اُس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا، جب وہ نمازِ مغرب ادا کر رہے تھے۔

مقتول صحافی کا تعلق مہمند ایجنسی سے تھا اور وہ وائس آف امریکہ کی پشتو سروس ’ ڈیوہ‘ کے علاوہ پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ’دنیا نیوز‘ سے بھی منسلک تھے۔

قبل ازیں، اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بھی مکرم خان عاطف کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے پسماندگان اور احباب سے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ: ’’ہم اُن کے اپنے پیشے کے اعلیٰ ترین اصولوں کی خاطر سچائی کی تلاش میں کہیں بھی جانے کے عزم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہم اس جرم کے مرتکب افراد کی شناخت اور اُنھیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے مکمل اور شفاف تحقیقات پر زور دیتے ہیں۔‘‘

دریں اثنا، پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے بھی اپنے ایک بیان میں صحافی مکرم خان عاطف کے قتل کی مذمت کی ہے اور اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ حکام کی یقین دہانیوں کے باوجود ملک بھر میں صحافیوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ، ’’صحافیوں کا حکومت پر یہ الزام کہ وہ انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے، اس صورتحال میں بلاجواز نہیں ہے کہ حکومت اپنے دوراقتدار میں متعدد صحافیوں کی ہلاکتوں کے واقعات میں سے کسی ایک صحافی کے قاتلوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں نہیں لاسکی۔‘‘

XS
SM
MD
LG