رسائی کے لنکس

پارلیمانی انتخابات میں 217 نشستوں کے لیے ایک سو مختلف جماعتوں کے لگ بھگ 13 ہزار امیدوار میدان میں ہیں۔

تیونس میں اتوار کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں جنہیں 2010ء میں حکومت مخالفت تحریک کے بعد ملک میں پائیدار جمہوریت کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔

تیونس شمالی افریقہ کا پہلا ملک تھا جہاں عوامی تحریک کے نتیجے میں ایک عرصے سے برسر اقتدار آمر زین العابدین بن علی کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ اس تحریک کے بعد خطے کے مختلف ملکوں بشمول مصر اور لیبیا میں بھی ایسی ہی تحریکوں نے جنم لیا۔

گوکہ مختلف عرب ملکوں میں عوامی تحریکوں سے افراتفری، بدامنی اور خون خرابے سے حالات ابتری کا شکار ہوئے لیکن تیونس میں صورتحال اب پرامن ہے۔

عام انتخابات کے بعد آئندہ ماہ صدارتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔

پارلیمانی انتخابات میں 217 نشستوں کے لیے ایک سو مختلف جماعتوں کے لگ بھگ 13 ہزار امیدوار میدان میں ہیں۔

2011ء میں ہونے والے عارضی انتخابات کے بعد یہ مستقل بنیادوں پر ہونے والے پہلے عام انتخابات ہیں۔

پولنگ کے موقع پر ملا جلا رجحان پایا جارہا ہے اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ لوگ جمہوریت سے کچھ زیادہ پرامید نظر نہیں آتے۔

یورپی کونسل کے امور خارجہ سے منسلک تجزیہ کار انتھونی ڈورکنگ کا کہنا ہے کہ "ابتدائی جائزوں سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو کہ جمہوریت نے ابھی تک اس ملک کو دیا ہے عوام کی اکثریت اس سے کچھ نا امید سی ہے۔۔۔لیکن ہم ابھی اس درجے تک نہیں پہنچے کہ جہاں ملک انتقال اقتدار کی طرف سے منہ موڑ لے۔"

مبصرین کے مطابق انتخابات میں سکیولر یا مذہبی رجحانات رکھنے والی جماعتوں میں سے کسی ایک کا بھی واضح اکثریت حاصل کرنا تھوڑا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

XS
SM
MD
LG