رسائی کے لنکس

گو کہ سائنسدان ابھی تک یہ کہنے سے گریز کر رہے ہیں کہ ’وائجر ون‘ ستاروں کے درمیان واقع اس خلاء میں موجود ہے جہاں ستاروں کی شعاعیں نکلتی ہیں جسے انگریزی میں interstellar space کہتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق ’وائجر ون‘ جسے 1977 میں خلائی دنیا تسخیر کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، نظام ِ شمسی سے باہر اب ایک اور نئی دنیا تسخیر کرنے کے راستے پر رواں دواں ہے۔

سائنسدانوں کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق یہ خلائی جہاز ہماری زمین سے گیارہ ارب میل کی دوری پر ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ گذشتہ برس اگست میں اس خلائی جہاز کے ارد گرد کے ماحول میں دو بڑی تبدیلیاں دیکھی گئیں۔

سائنسدانوں کی جانب سے اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خلائی جہاز سے نکلنے والی شعاعوں کی سطح میں تبدیلی مشاہدے میں آئی ہے۔ ایک وہ شعاعیں تھیں جو نظام ِ شمسی کے اندر کی شعاعیں ہیں۔ دوسری طرح کی شعاعیں وہ تھیں جو ستاروں کے درمیان خلاء میں سے پھوٹتی ہیں۔

ماہر ِ فلکیات بل ویبر جو اس تحقیق کی سربراہی بھی کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ’’heliosphere یا نظام ِ شمسی کا وہ حصہ جہاں شعاعیں منعکس ہوتی ہیں، اس میں پہلے کے مقابلے میں ایک فیصد شعاعوں کی سطح میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ ستاروں سے پھوٹنے والی شعاعوں کا تناسب پہلے کی نسبت دو گنا ہو گیا ہے‘‘۔

گو کہ سائنسدان ابھی تک یہ کہنے سے گریز کر رہے ہیں کہ ’وائجر ون‘ ستاروں کے درمیان واقع اس خلاء میں موجود ہے جہاں ستاروں کی شعاعیں نکلتی ہیں جسے انگریزی میں interstellar space کہتے ہیں۔


ماہر ِ فلکیات بل ویبر کہتے ہیں کہ ’’ ’وائجر ون‘ نظام ِ شمسی کے اس حصے سے ابھی باہر ہے جہاں شعاعیں نمودار ہوتی ہیں۔‘‘
XS
SM
MD
LG