رسائی کے لنکس

وحید مراد: خلاء پُر نہ ہو سکا!

  • افضل رحمان

وحید مراد: خلاء پُر نہ ہو سکا!

وحید مراد: خلاء پُر نہ ہو سکا!

معروف اداکار مصطفٰی قریشی کا کہنا ہے کہ وحید مراد مرحوم کے بارے میں یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ وہ مغرور تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوستوں کے دوست اور یاروں کے یار تھے۔

معروف فلمی ہیرو وحید مراد کی ستائیسویں برسی پر صدر آصف علی زرداری کی طرف سے مرحوم فنکار کے لیے بعد از مرگ ستارہ امتیاز کے اعلان کو فلمی صنعت نے ایک خوش آئند اقدام قراردیا ہے۔ لاہور میں رواں ہفتے وحید مراد کی یاد میں ہونے والی ایک تقریب میں حکومت کے اس اقدام کو سراہا گیا۔


فلمی اداکار مصطفیٰ قریشی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو میں حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فلمی صنعت میں اور بھی فنکار ہیں جن میں سے کچھ حیات ہیں اور کچھ اس دُنیا سے جا چکے ہیں، جن کی حکومت کو پذیرائی کرنی چاہیئے۔ مصطفٰی قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلمی صنعت میں بڑے بڑے فنکار گزرے ہیں اور المیہ یہ رہا ہے کہ جو فنکار چلا گیا اُس کی جگہ پُر نہ ہوسکی۔

وحید مراد: خلاء پُر نہ ہو سکا!

وحید مراد: خلاء پُر نہ ہو سکا!

مصطفٰی قریشی نے کہا کہ بلا شبہ وحید مراد کا شمار اُن بڑے اداکاروں میں ہوتا ہے جن کا خلا آج تک پُر نہیں ہوسکا۔ وحید مراد کے ساتھ گزرے اپنے دِنوں کا ذکر کرتے ہوئے مصطفیٰ قریشی نے کہا کہ وحید مراد کے ساتھ اُن کی پہلی فلم عندلیب تھی جو باکس آفس پر انتہائی کامیاب رہی تھی۔ اُنھوں نے بتایا کہ وحید مراد اُن سے سینئر فنکار تھے اور اُس دور میں اپنی فلموں ارمان، ہیرا اور پتھر کی کامیابیوں کے سبب وہ شہرت کی بلندیوں پر تھے۔

وحید مراد: خلاء پُر نہ ہو سکا!

وحید مراد: خلاء پُر نہ ہو سکا!

وحید مراد کے فن اور شخصیت پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور اس اداکار کی زندگی، فلمی سفر اور مشاغل ان تحریروں میں جس طور پر پیش کیے گئے ہیں اُن میں وحید مراد کی بحثیت فلمی ہیر و عظمت کی واضح نشاندہی ہوتی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ گلبرگ لاھور کے قبرستان میں اُن کی قبر کے کتبے پر اُن کو " چاکلیٹی ہیرو" لکھا گیا ہے۔

مصطفیٰ قریشی نے بتایا بحیثیت انسان وہ انتہائی حقیقت پسند شخصیت کے مالک تھے اور اُن کے بارے میں یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ وہ مغرور تھے۔

واضح رہے کہ وحید مراد کے والد نثار مراد ایک فلمساز تھے اور ابتداء میں وحید مراد بھی فلمساز کے طور پر ہی فلمی صنعت میں داخل ہوئے تاہم ہدایتکار ایس ایم یوسف کی فلم اولاد میں معاون اداکار کے طور پر ان کے فلمی کیرئر کا آغاز ہوا اور پھر اُنیس سو چھیاسٹھ میں فلم ارمان کی بے مثل کامیابی نے وحید مراد کو سُپر سٹار بنا دیا۔

بعد ازاں اُن کے فلمی کیرئیر میں نشیب وفراز بھی آئے۔ اُنھوں نے پنجابی فلموں میں بھی کام کیا اور اُن کی کئی پنجابی فلمیں ہٹ بھی ہوئیں۔ تاہم کیرئیر کے آخری حصے میں فلمی مبصرین کے بقول چونکہ وحید مراد کو فلمی صنعت میں وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کے وہ عادی ہوچکے تھے جو مصطفیٰ قریشی کے بقول وحید مراد کے لیے مایوسی کا سسب بنی۔

وحید مراد اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور حساس طبیعت کے مالک تھے۔ مصطفٰی قریشی نے بتایا کہ سیٹ پر وحید مراد جب فارغ ہوتے تھے تو کسی نہ کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف دیکھے جاتے تھے۔

اُن کے بقول وحید مراد دوستوں کےدوست اور یاروں کے یار تھے۔ وقت کے بہت پابند تھے۔ دس بجے اگر شفٹ شروع ہوتی تھی تو وحید مراد دس بجے موجود ہوتے تھے۔ مصطفیٰ قریشی نے کہا کہ اُن کی خواہش ہے کہ آج کے فنکار بھی کم از کم وقت کی پابندی کرنے میں وحید مراد جیسے عظیم فنکار کی پیروی کریں۔

XS
SM
MD
LG