رسائی کے لنکس

پوٹن کا امن منصوبہ غیر سنجیدہ ہے: نیٹو سیکرٹری جنرل


نیٹو کے سیکرٹری جنرل

نیٹو کے سیکرٹری جنرل

نیٹو کا دو روزہ سربراہی اجلاس جمعرات کو ویلز میں شروع ہو گیا اور توقع کی جا رہی ہے کہ نیٹو ممالک کے اس سربراہی اجلاس کا محور یوکرین کا تنازع اور شام اور عراق میں اسلامی انتہا پسندوں کا خطرہ ہو گا۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے مشرقی یوکرین میں جاری لڑائی کو ختم کرنے کے حوالے سے روسی صدر ولادیمر پوٹن کے سات نکاتی مںصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔

ویلز میں نیٹو کے سربراہ اجلاس سے قبل آندرس راسموسن نے صدر پوٹن کے" نام نہاد امن منصوبے" کو غیر سنجیدہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ زیادہ اہم ہے کہ اس وقت مشرقی یوکرین میں زمینی حقائق کیا ہیں جہاں مغرب کا کہنا ہے کہ روسی فوجی علحیدگی پسندو ں کے ساتھ مل کر یوکرینی فوج کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ روس اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ " ہم روس سے مسلسل کہہ رہے ہیں کہ وہ یوکرین کی سرحد سے اپنے فوجی واپس بلائے، یوکرین میں جنگجوؤں اور اسلحہ کی ترسیل کو روکنے کے ساتھ ساتھ مسلح جنگجوؤں کی امداد بند کرے اور ایک تعمیری سیاسی مکالمہ شروع کرے"۔ ان کے بقول " یہ حقیقی معنوں میں سیاسی حل کی کوشش ہو گی"۔

نیٹو کا دو روزہ سربراہی اجلاس جمعرات کو ویلز میں شروع ہو گیا اور توقع کی جا رہی ہے کہ نیٹو ممالک کے اس سربراہی اجلاس کا محور یوکرین کا تنازع اور شام اور عراق میں اسلامی انتہا پسندوں کا خطرہ ہو گا۔

ویلز کے شہر نیوپورٹ میں ہونے والے اجلاس کے دوران ممکنہ طور پر ایسی سریع الحرکت فورس کی تشکیل پربھی بحث کی جائے گی جس کو مختصر وقت میں مشرقی یورپ کے بدامنی کے شکار علاقوں میں متعین کیا جاسکے گا۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو کو نیٹو کا رکن نہ ہوتے ہوئے بھی اس اجلاس میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس موقع پر مغربی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

روس جو اپنی سرحدوں کے قریب کسی بھی طرح کی نیٹو کی موجودگی کی سخت مخالفت کرتا ہے نے سریع الحرکت فورس کی تشکیل کی مذمت کی ہے۔

اس اجلاس کے دوران نیٹو ممالک کے رہنما اسلامک اسٹیٹ کے خطرے سے نمنٹے کے بارے میں بھی بات چیت کریں گے جس نے شمالی عراق اور مشرقی شام کے ایک وسیع علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

امریکہ انتہاپسند گروہ کے خلاف فضائی کارروائیاں کر رہا ہے جب کہ دوسرے اتحادی ممالک نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنی شروع کر دی ہے۔

صدر براک اوباما ایسٹونیا دارالحکومت ٹالین میں صدر الویس سے ملاقات کے بعد اس اجلاس میں شرکت کے لیے بدھ کو دیر گیے برطانوی فوجی اڈے پر پہنچے تھے۔

ٹالین میں صدر اوباما نے یوکرین میں روسی مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے اس کو ایک آزاد ملک کے خلاف" کھلی جارحیت " قرار دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG