رسائی کے لنکس

وقاص شاہ کو گذشتہ سال اس وقت فائر کرکے قتل کیا گیا جب 12مارچ 2015ء کو رینجرز کی جانب سے ایم کیو ایم کے مرکز ’نائن زیرو‘ پر چھاپے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا۔ احتجاج کے دوران اچانک فائرنگ ہوئی جس سے وقاص شاہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا

کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکن اور سابق یونٹ انچارج آصف علی کو اپنی ہی پارٹی کے ایک اور کارکن وقاص شاہ کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنا دی گئی۔

یہ سزا پیر کی دوپہر کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سنائی۔ مجرم آصف علی کو عدالتی حکم کے مطابق غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں سات سال قید کی سزا بھی کاٹنا ہوگی۔

وقاص شاہ کو گزشتہ سال اس وقت فائر کرکے قتل کیا گیا جب 12مارچ 2015 کو رینجرز کی جانب سے ایم کیو ایم کے مرکز ’نائن زیرو‘ پر چھاپے کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا۔ احتجاج کے دوران، اچانک فائرنگ ہوئی جس سے وقاص شاہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔

وقاص شاہ کے قتل میں ملوث ایم کیو ایم کا سابق یونٹ انچارج سید آصف علی واقعے کے بعد روپوش ہوگیا تھا۔ تاہم، بعد میں اسے شہدادپور سے گرفتار کرلیا گیا۔

واقعے کا مقدمہ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں 14 ماہ سے زیر سماعت تھا۔ پچھلے مہینے فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا جسے پیر کے روز سنایا گیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سید آصف علی کے خلاف جرم ثابت ہوگیا ہے، وقاص ،آصف کی گولی کا نشانہ بنا۔ لہٰذا مجرم کو سزائے موت سنائی جاتی ہے۔

ادھر آصف علی کے وکیل کا کہنا ہے کہ فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

وقاص شاہ کی عمر 25سال تھی اور وہ ایم کیو ایم کی طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس سے وابستہ تھے۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ان کی موت چہرے سے داخل ہوکر سر سے باہر نکل جانے والی گولی کے سبب ہوئی۔

XS
SM
MD
LG