رسائی کے لنکس

کئی برسوں کے مطالعے اور تجربات کے بعد، تمام فوجی عہدے، جن میں لڑاکا پوزیشن بھی شامل ہے، اُن تک خواتین کو دسترس حاصل ہوگئی ہے۔ اِس تاریخ ساز فیصلے کا اعلان امریکی وزیر دفاع، ایش کارٹر نے کیا

ایسا لگتا ہے کہ سال 2015 امریکی فوج میں خواتین کا سال تھا۔

کئی برسوں کے مطالعے اور تجربات کے بعد، تمام فوجی عہدے، جن میں لڑاکا پوزیشن بھی شامل ہے، اُن تک خواتین کو دسترس حاصل ہوگئی ہے۔

اِس تاریخ ساز فیصلے کا اعلان امریکی وزیر دفاع، ایش کارٹر نے کیا۔

کارٹر نے کہا ہے کہ، 'درکار شرائط اور معیار پر پورا اترنے کی صورت میں، خواتین کو اب پہلے سے کہیں زیادہ مشنز میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔ وہ ٹینک چلا سکیں گی، بھاری دہانے والے گولے داغ سکتی ہیں، اور پیدل فوج کے لڑاکا مشنز کی قیادت کرسکتی ہیں۔ وہ آرمی رینجرز اور گرین بریٹس، نیوی سیلس، میرین کور انفنٹری، ایرفورس پیراجمپرس، اور ہر عہدے پر موجود ہوں گی جو پہلے کبھی مردوں کے لیے مخصوص ہوا کرتی تھیں'۔

الیٹ رینجرز

کرسٹین گریئسٹ اور شائے ہیور مثالی خاتون فوجی ہیں، جنھوں نے گذشتہ اگست میں فوج کا 'الیٹ رینجر' کورس کامیابی سے پاس کیا۔

گریئسٹ کے بقول، 'آپ کی چھٹی بند ہوتی ہے، آپ کو تھکنے کی گنجائش نہیں۔ آپ کو سخت ترین محنت کی عادت ہونی چاہیئے'۔

یورپ میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر، جنرل بین ہوجز کے بقول، 'میرے خیال میں، بہت جلد ہم یہ کہنے والے ہیں آخر ہم نے 10 برس قبل یہ فیصلہ کیوں نہیں کیا؟'

ٹال مٹول کرنے والوں کے لیے یہ موزون جگہ نہیں

ہوجز نے کہا کہ وہ آئندہ کی فوج کے بارے میں پُرامید ہیں، اور اُنھیں حیلے بہانے سے کام لینے والوں کی کوئی پرواہ نہیں رہی۔

بقول اُن کے، 'اس سے ہمارا نظم و ضبط بہتر ہوگا، اور نکتہ چینی کرنے کے برعکس ضرورت اس بات کی ہے ہم نوجوان مرد و خواتین کی ہمت افزائی کریں جو آگے بڑھ کر ملک کی خدمت کرنے کا عزم رکھتے ہیں'۔

تاہم، ایک شاخ ایسی بھی ہے جہاں ابھی تک انفنٹری میں خواتین کی خدمات نہیں لی جا سکتیں۔ میرین کور نے تجربہ کیا، جس سے پتا چلا کہ مردوں پر مشتمل میرین دستے 'زیادہ چست اور جان لیوا ثابت ہوئے'۔

لیکن جب بات مقابلے کی ہو تو یہ طے ہے کہ مردوں تک محدود دستوں کے مقابلے میں مرد و خواتین دستوں کے یونٹ زیادہ مستعدی سے کارکردگی دکھاتے ہیں۔

کیتھرین کِڈر کا تعلق 'نیو امریکن سکیورٹی' کے مرکز سے ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ میرین کور کے عہدے کے لیے فیصلہ یہ کرنا ہوگا کہ مسلح افواج میں کیا چیز درکار ہے۔

کِڈر کے بقول، 'اِس لیے سوال یہ ہوگا کہ ہم کسی قسم کی فوج چاہتے ہیں؟ ہم کس طرح کی میرین کور کے خواہاں ہیں؟ کیا ایسی ہونے چاہیئے جو صرف جسمانی طور پر قوی ہو یا پھر ایسی ہو جس میں کلیدی فیصلے کرنے کی صلاحیت ہو، جب کہ یہ انتہائی توانائی دکھانے والا کام ہے'۔

معاملہ ٹیلنٹ کا بھی ہے

ماہرین کے مطابق، حاصلِ کلام یہ ہے کہ یہ معاملہ موزونیت کا ہی نہیں بلکہ پیشہ ورانہ صلاحیت کا بھی ہے۔

کِڈر کہتی ہیں کہ 'چونکہ آپ مرد ہیں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ ہی کسی پوزیشن کے لیے موزوں ترین ہیں، بلکہ انتظامی حکمت عملی کی وسیع تر صلاحیت کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا اور بہتر سے بہتر بھرتی کرنی ہوگی، پھر آپ کو مروجہ معیار کا خیال رکھنا ہوگا، بغیر یہ سوچے کہ کون مرد ہے کون عورت'۔

XS
SM
MD
LG