رسائی کے لنکس

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں نو منتخب میئر نے کہا کہ’’ میں ایم کیو ایم کا نہیں کراچی کا میئر ہوں ، کراچی کا مینڈیٹ تسلیم کرلیا گیا ہے ۔ ‘‘

متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی اور حیدرآباد کی میئراور ڈپٹی میئر شپ جیت لی ۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق کراچی کی میئر شپ وسیم اختر ڈپٹی میئر شپ ارشد وہرہ نے جیت لی جبکہ حیدرآباد سے ایم کیو ایم کےامیدوار سید طیب حسین میئر اور سہیل محمود مشہدی ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے۔

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر کے انتخابات بدھ کو منعقد ہوئے جن میں اصل مقابلہ چار امیدواروں کے درمیان تھا ۔

ایم کیوایم نے وسیم اختراور پیپلزپارٹی نے کرم اللہ قاضی کو انتخابی میدان میں اتارا تھا جبکہ محمد رفیق خان اور ارشد حسن نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا ۔

دوسرے اہم عہدے ڈپٹی میئر کے لئے ایم کیوایم نے ارشد وہرہ اور مسلم لیگ نواز نے امان اللہ آفریدی کو اپنا امیدوار بنایا تھا جبکہ نوید جاوید آزاد امیدوارکی حیثیت سے کھڑے ہوئے تھے ۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں نو منتخب میئر نے کہا کہ’’ میں ایم کیو ایم کا نہیں کراچی کا میئر ہوں ، کراچی کا مینڈیٹ تسلیم کرلیا گیا ہے ۔ ‘‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’ہم تمام سیاسی جماعتوں اور ڈی جی رینجرز کے ساتھ ملکر کام کریں گے۔ ہم متحد ہوں گے تو مسائل حل ہوں گے۔مجھے ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کی رہنمائی چاہیے ۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں وسیم اخترنے کہا کہ’’ مجھ پر سیاسی مقدمات ہیں، بلاول بھٹو اور آصف زرداری کا کہنا ہے کہ سندھ میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں لیکن میں سندھ کا ہی سیاسی قیدی ہوں۔ رؤف صدیقی بھی سیاسی قیدی ہیں، مجھ پر قائم تمام مقدمات جھوٹے اور قابل ضمانت ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست کروں گا کہ سینٹرل جیل میں ایک دفتر دیا جائے اور کوئی ایسی ترمیم کی جائے جس سے عوام مجھ تک پہنچ سکیں۔

XS
SM
MD
LG