رسائی کے لنکس

لائف اِن امریکہ:بوٹنک گارڈن کی سیر

  • بہجت گیلانی

.

.

امریکہ کا بوٹنک گارڈن کو 1820ء میں کھولا گیا تھا۔ امریکہ میں کیپیٹول ہِل کے ساتھ ہی شیشے کے گنبد والی یہ عمارت ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ اِس میں 10000سے زائد پودے دیکھے جاسکتے ہیں جو دنیا کے سحراؤں، جنگلوں اور دوسرے ماحول اور لینڈ اسکیپ کے عکاس ہیں۔

اِن پودوں کی بیشتر اقسام دنیا کے سحراؤں اور جنگلوں میں غائب ہو رہی ہیں۔

امریکہ کا بوٹنک گارڈن پودوں سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک جنت ہے اور آج یہاں منفرداور معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار مختلف قسمیں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

’ہوائین روم‘ میں سرسبز پودوں کا ایک ذخیرہ مصنوعی لاوے کے بہاؤ اور آبشار میں پتھروں کے گِرد اور اندر اُگایا گیا ہے۔

شمالی امریکہ میں ہوائی کا زمینی رقبہ بہت چھوٹا ہے۔ لیکن، یہاں ایسے پودوں کی بہتاط ہے جو معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اِس کمرے میں آپ جو پودے دیکھ رہے ہیں اِن میں سے ہر ایک پودے کو مٹ جانے کے خطرے کا سامنا ہے۔

امریکہ کے بوٹنک گارڈن کے ہارٹیکلچرسٹ رے مینز ’برغیمہ‘ یا پھر ’کبیج آن اے اسٹک‘ کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو ایک لمبی لکڑی کے اسٹیم کے سرے پر گچُھے کی طرح اگتی ہے۔ جانوروں کے چرنے اور ترقی میں اضافے کے باعث اِس کی کاشت میں کمی آرہی ہے۔

مینز کہتے ہیں کہ پودے اور پولیننٹر کے درمیان نازک توازن متاثر ہوگیا ہے۔

امریکہ کا بوٹنک گارڈن برغیمہ اور ایسے ہی دوسرے نادر پودوں کو بچانے کے لیے کام کر رہا ہے۔

ریمنز کہتے ہیں: ’جینیاتی طور پر ہم اِن کی کافی مقدار حاصل کر چکے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہم دوبارہ جنگل میں اِن پودوں کو کاشت کریں گے اور دوبارہ اِس کا اگنا ممکن بنا سکیں گے‘۔

اِس کنزرویٹری کے سحرا میں ایک نادر ’ویل ورچیا‘ یا پھر ’ڈزرٹ اونین‘ موجود ہے۔ ریمنز کہتے ہیں کہ اِس پودے کے بقا کا دارومدار ساحلی دُھند پر ہے۔

ہارٹیکلچرسٹ ریمنز کا کہنا ہے کہ جِن علاقوں میں اِس پودے کی کاشت ہوتی ہے وہاں برسہا برس بارش نہیں ہوتی۔ اِس کے پتے اِس طرح سے بنے ہیں کہ وہ پانی کو پلانٹ کے وسط سے جڑوں تک پہنچا دیتے ہیں۔ اگرچہ، اِسے معدوم ہونے کے خطرے کا سامنا تو نہیں اور اِسے قانونی تحفظ بھی حاصل ہے کیونکہ اب ان کی تعداد کم ہو چکی ہے اور یہاں گارڈن میں یہ پھل پھول رہا ہے اور اِسے دیکھنا اچھا بھی لگتا ہے۔

امریکہ کے اس بوٹنک گارڈن میں آرچرڈ کی تقریباً 5000قسمیں موجود ہیں۔

بوٹنک گارڈن کے ریمنز کو پریشانی ہے کہ یہإ ں موجود 5000آرچرڈ میں سے بیشتر معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ خاص طور پر غیر قانونی طور پر اس کو جمع کرنے والوں کے ہاتھوں وہ کہتے ہیں کہ اِن کی نمائش اِس مسئلے کی طرف توجہ مبذول کراتی ہے۔

اِس بوٹنک گارڈن میں آنے والے بیشتر افراد نینسی گوئز کی طرح ہیں جو یہاں سکون کی تلاش میں آتے ہیں۔

نینسی گوئر کہتی ہیں کہ جب دنیا سے کوئی چیز ختم ہوتی ہے تو پھر واپس نہیں آتی! اور زمین پر موجود ہر چیز کے وجود کی ایک وجہ ہے۔ اور یہ سب کچھ ہماری زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG