رسائی کے لنکس

واشنگٹن میں ہونے والی vigil کے موقع پر موم بتیاں جلائی گئیں اور آرمی سکول کے اُن ننھے معصوم بچوں کو یاد کیا گیا جنہیں 16 دسمبر کو اپنی زندگی کے بدترین سانحے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پشاور میں آرمی پبلک سکول پر ہوئے حملے کو ایک ماہ بیت چکا ہے۔

سانحہ ِپشاور نے نہ صرف آرمی پبلک سکول کے بچوں اور لواحقین بلکہ پورے پاکستان کو جھنجھوڑ ڈالا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ ایک ماہ میں پاکستانی دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھاتے دکھائی دئیے۔

16 جنوری کو دنیا بھر کے مختلف ممالک اور امریکہ کے مختلف شہروں میں سانحہ ِپشاور کو یاد کرنے کے لیے مختلف تقریبات اور مظاہروں کا اہتمام کیا گیا۔

واشنگٹن ڈی سی میں بھی امریکن پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اکٹھی ہوئی اور پشاور سانحے کے ننھے شہداء کو سلام پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان سے دہشت گردی کی لعنت ختم کرنے کے عزم کو دہراتے دکھائی دئیے۔

واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان کے سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن ڈاکٹر اسد مجید خان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن، میری لینڈ اور ورجینیا کی پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ امریکیوں نے بھی سانحہ ِپشاور کی بھرپور مذمت کی اور آج بھی اسی عزم کے ساتھ یہاں جمع ہوئے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کو شکست دینا ہے۔

​اس موقعے پر شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں hate speech یا نفرت اور شر انگیز مواد پھیلانے والے عناصر کی باز پرس کرنا ضروری ہے اور حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھائے تاکہ ملک میں مذہب کے نام پر قتل و غارت گری کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ڈی سی ایم ڈاکٹر اسد مجید کا کہنا تھا کہ شدت پسندی اور نفرت انگیز مواد جیسے مسائل کا صرف پاکستان کو ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی دیگر ممالک کو بھی سامنا ہے جس کا سد ِباب کیا جانا بہت ضروری ہے۔

واشنگٹن میں ہونے والی vigil کے موقع پر موم بتیاں جلائی گئیں اور آرمی سکول کے اُن ننھے معصوم بچوں کو یاد کیا گیا جنہیں 16 دسمبر کو اپنی زندگی کے بدترین سانحے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

واشنگٹن میں ہونے والی vigil کا اختتام اس عہد کے ساتھ ہوا کہ پاکستانی خواہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں اور ملک میں نفرت انگیز مواد کی اشاعت و فروغ پر مکمل پابندی چاہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG